Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
466 - 475

سیدنا ابو بَخْتَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی  کی مرویات
	حضرتِ سیِّدُناابو بختریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینےامیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعلیُ المرتضٰی،حضرتِ سیِّدُناابوذر، حضرتِ سیِّدُنا سلمان،حضرتِ سیِّدُناابن عُمَر،حضرتِ سیِّدُناابوسعید،حضرتِ سیِّدُناعبداللہبن عباس رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے روایات لیں۔
عطائےمصطفٰے:
(6081)…امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں: تمام نبیوں کے سرور، سلطان بحر وبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا تو میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ مجھے بھیج رہے ہیں، میں تو کم عُمْر ہوں اور مجھے فیصلہ کرنا بھی نہیں آتا؟ آپ نے  میرے سینے پر ہاتھ رکھا اورفرمایا:”اِنَّ اللهَ سَيَهْدِيْ لِسَانَكَ وَيُثَبِّتُ قَلْبَك یعنی  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تیری زبان پر ہدایت جاری کرے گا اور تیرے دل کو ثابت رکھے گا۔“آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں: اس کے بعد مجھے کبھی فیصلہ کرنے میں پریشانی نہیں ہوئی۔(1)
قناعت سنت نبوی ہے:
(6082)…حضرتِ سیِّدُنا ابو بَخْتَري عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ”ہمارے پاس کچھ مال بچ گیا ہے  اور میں نے لوگوں کے حقوق بھی ادا کر دیے ہیں، اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: ”اے امیرالمؤمنین! آپ کی بھی حاجات ہیں اور آپ کو چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے یہ آپ لے لیں اور اپنی ضروریات میں خرچ کریں ہمارا دل آپ سے صاف ہے۔“ حضرتِ سیِّدُنا علیُ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم خاموش تھے۔ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےان سےفرمایا:”اےابوالحسن!آپ خاموش کیوں ہیں؟“آپ نے عرض کی: لوگوں نے آپ کو مشورہ دے دیا ہے۔“ امیرالمؤمنین نے فرمایا: ”آپ کو بھی لازماً کچھ کہنا پڑے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ابن ماجہ، کتاب الاحکام، باب ذکر القضاة، ۳/ ۹۰،حدیث:۲۳۱۰،بتغیرقلیل