Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
465 - 475
فرمایا: جب تم ان کوایسا کرتے دیکھو تو میرے پاس آنا اور مجھے ان کی مجلس کی خبر دینا۔ چنانچہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ان کی مجلس میں آکر بیٹھ گئے آپ نے لمبی ٹوپی پہن رکھی تھی جب آپ نے ان کا ذکر سنا تو کھڑے ہو گئے، آپ انتہائی سخت انسان تھے، آپ نے فرمایا: میں عبداللہ بن مسعود ہوں، اس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! تم نے بدعت لا کر ظلم کیا یا فرمایا:کیا تم صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے زیادہ علم رکھنے والے ہو؟ حضرت معضد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے عرض کی: ہم نہ تو  ظلم کرتے ہوئے بدعت لائے ہیں اور نہ ہی ہم صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے زیادہ علم رکھنے والے  ہیں؟حضرتِ عُمَربن عُتْبَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے عرض کی: اے ابوعبدالرحمٰن!ہماللہ عَزَّ  وَجَلَّسےاستغفارکرتےہیں۔آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےفرمایا:تم پرصحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا طریقہ لازم ہے  تو اسے لازم پکڑ لو، خدا کی قسم! اگر تم نے ایسا کیا تو تم لوگوں سے بہت زیادہ سبقت لےجاؤگےاوراگردائیں بائیں مائل ہوئےتو بڑی گمراہی میں پڑو گے۔ ایک روایت میں حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آنے والے شخص کا نام مسیب بن نَجِیَّہذکر ہوا ہے۔
ایک سجدہ نجات دے گا:
(6080)…حضرتِ سیِّدُناابو بختری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حصے میں ایک لونڈی آئی، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس سے فارسی زبان میں فرمایا: ”نماز ادا کرو۔“ اس نے انکار کر دیا۔ پھر فرمایا: ”اے خاتون! ایک سجدہ ہی کر لے۔“ اس نے اس سے بھی انکار کر دیا۔ تو کسی نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے دریافت کیا کہ”اے ابو عبداللہ!ایک سجدہ سے اس کو کیا فائدہ پہنچنا تھا؟“ ارشاد فرمایا: ”اگر ایک سجدہ کر لیتی تو اس کو پانچوں نمازوں کی توفیق مل جاتی اور جس کا اسلام میں کچھ حصہ ہو وہ اس سے بہتر ہے جس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بدگمانی کی تعریف
٭…بدگمانی سےمرادیہ ہےکہ بلادلیل دوسرےکےبُرےہونےکادل سےاعتقادِجازِم(یعنی یقین)کرنا۔
(شیطان کےبعض ہتھیار،ص۳۲)