لوگوں میں رہنا اپنے سےکم علم لوگوں میں رہنے سے زیادہ محبوب ہے۔
(6074)…حضرتِ سیِّدُنا ابو بختری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: میں چاہتا ہوں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت کی جائے اور میں تو ایک غلام بندہ ہوں۔
(6075)…حضرتِ سیِّدُنا زید بن جبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرتابو بختری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے مجھ سے فرمایا: یوں نہ کہو’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم وہ جہاں بھی ہے‘‘کیونکہ وہ (اپنی شان کے لائق) ہر جگہ موجود ہے (یعنی اپنے علم سے ہر جگہ کو محیط ہے)۔
(6076)…حضرتِ سیِّدُنا ابو بختری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےایک شخص کو کھانے کی دعوت دی ، اتنے میں ایک مسکین آگیا،وہ شخص ایک روٹی کا ٹکڑا اٹھا کر مسکین کو دینے لگا تو حضرتِ سیِّدُنا سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: اسے وہیں رکھ دو جہاں سے اٹھایا ہے ، ہم نے تمہیں کھانے کی دعوت دی ہے، اس لئے دعوت نہیں دی کہ اجر کسی اور کے لئے ہو اور گناہ تم پر ہو۔
(6077)…حضرتِ سیِّدُنا ابو بختری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: ایک شخص حضرتِ سیِّدُنا سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آیا اور عرض کی:آج کل لوگوں کے اخلاق کتنے اچھے ہیں، میں سفر پر گیا، خدا کی قسم! میں جس کے پاس بھی رُکا مجھے ایسا لگا گویا میں اپنے سگے بھائی کے پاس رُکا ہوں۔ پھر اس شخص نے کہا: کس نے ان کے اخلاق کو اچھا اور مہربان کر دیا؟حضرتِ سیِّدُنا سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! یہ ایمان کا ایک حصہ ہے، کیا تو نہیں دیکھتا کہ جب جانور پر وزن رکھا جاتا ہے تو وہ تیز چلتا ہے اور جب مسافت لمبی ہو جاتی ہے تو وہ آہستہ ہو جاتا ہے۔
سنتِ صحابہ کو لازم پکڑ لو:
(79-6078)…حضرتِ سیِّدُنا ابو بختری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: ایک شخص نے حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو خبر دی کہ کچھ لوگ مغرب کے بعد مسجد میں بیٹھتے ہیں اور ان میں سے ایک شخص کہتا ہے اتنی اتنی مرتبہ اَللہُ اَکۡبَر کہو ،اتنی اتنی مرتبہ سُبۡحَانَ اللہ کہواور اتنی اتنی مرتبہ اَلۡحَمۡدُلِلّٰہ کہو۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: کیا وہ ایسے ذکر کرتے ہیں؟ اس شخص نے عرض کی : جی ہاں۔ آپ نے