حضرتِ سیِّدُنا سعید بن فیروز ابو بَخْتَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی
متذبذب لوگوں پر تنقید کرنے اور بہتان باندھنے والوں پر خروج کرنے والے ایک تابعی بزرگ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن فیروز ابو بختری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بھی ہیں جنہوں نے علما کے ساتھ جھوٹے حجاج پر خروج کیا اور دَیرِ جَماجِم میں عبد الرحمٰن بن محمد بن اَشْعَث کی قیادت میں لڑی جانے والی جنگ میں علما کے ساتھ شہید ہوئے۔
شہادت کی موت:
(6069)…حضرتِ سیِّدُنا غَسَّان بن مضر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:جن علمائے کرام نے عبدالرحمٰن بن محمد بن اَشْعَث کے ساتھ حجاج کے خلاف خروج کیا ان میں حضرتِ سیِّدُنا ابو بختری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بھی شامل تھےجس دن وہ لوگ جنگ کے لئے نکلے اس دن ان کا نعرہ ”یا ثَارَاتِ الصَّلٰوۃ “تھا۔اورحضرتِ سیِّدُنا ابو بختری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی”دَیرِ جَماجِم“(1) میں شہید ہوئے۔
(6070)…حضرتِ سیِّدُنا عطاء بن سائب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا ابو بختری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے دیر جماجم کے دن فرمایا:لوگوں کی کے بھاگنے کی جگہ(یعنی جہنم) تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہے۔حضرتِ سیِّدُناابو بختری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بھی لڑتے رہے حتّٰی کہ شہید ہو گئے۔
(6071)…حضرتِ سیِّدُنا عطاء بن سائب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناابو بَخْتَریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیجب کسی کےرونےکی آواز سنتے تو خود بھی رونے لگتےکیونکہ آپ بہت نرم دل شخص تھے۔
شوق علم دین:
(6072)…حضرتِ سیِّدُنا ابو بختریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:مجھے ایسے لوگوں میں رہنا زیادہ پسند ہے جن سے میں علم سیکھوں بجائے اس کے کہ میں ایسے لوگوں میں رہوں جنہیں علم سکھاؤں۔
(6073)…حضرتِ سیِّدُنا ابو بختری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: مجھے اپنے سے زیادہ علم رکھنے والے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…دیر جماجم فرات کی جانب مغرب کوفہ سے تقریبا 7 فرسخ(21میل سے زائد، ایک لاکھ26 ہزار فٹ) کے فاصلے پر واقع ایک مقام ہے۔(اردو دائرہ معارف اسلامیہ،۹/ ۵۳۷)