Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
460 - 475
 اسے موقَع غنیمت جانا اور اپنی اونٹنی کو آپ کی جانب  دوڑا دیا حتّٰی کہ آپ کے ساتھ ساتھ چلنے لگا، میں نے عرض کی : ”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے ایسا عمل سکھائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔“ ارشاد فرمایا: ”تم نے  بہت بڑی بات پوچھی  ہے یقیناً  یہ اسی کے لئے آسان جس پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّاسےآسان فرما دے،اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرو، فرض نماز پڑھو، فرض کی گئی زکوۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔“اس کے بعد ہم آگے بڑھے، توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں بھلائی کے دروازوں کے بارے میں بتاؤں، روزہ ڈھال ہے ، صدقہ گناہوں کا کفارہ ہےاور درمیانی رات میں آدمی کا نماز پڑھنا۔“ پھر آپ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:     تَتَجَافٰی جُنُوۡبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ   (پ۲۱،السجدة:۱۶)	
ترجمۂ کنز الایمان:ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خواب گاہوں سے۔
	اس کے بعدہم آگے بڑھے توآپ نےارشادفرمایا: ”کیا میں تمہیں ساری چیزوں کی اصل، ستون اور کوہان کی بلندی نہ بتادوں، وہ  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔“اس کے بعدہم آگے بڑھے تو ارشاد فرمایا:”اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس چیز کے بارے میں بتاؤں جو اس پورے معاملے میں لوگوں کی حاکم ہے؟“ یہ فرما کر آپ خاموش ہو گئے اور میں آپ کی جانب متوجہ رہا پھر میں نے ایک سوار کو آپ کی جانب تیزی سے آتا ہوا دیکھا تو مجھے یہ خوف لاحق ہوا کہ کہ وہ یہاں آ کر نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی توجہ میری جانب سے ہٹا نہ دے کہ اتنے میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی زبان اور منہ کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے عرض کی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہم جو کلام کرتے ہیں کیا اس کا بھی مواخذہ ہوگا؟ ارشاد فرمایا: ”اے ابن جبل! تمہیں تمہاری ماں روئے!جو تم کہتے ہو وہ تمہارے حق میں ہوتا ہے یا تمہارے خلاف لوگوں کو منہ کے بل جہنم میں گرانے والی ان کے منہ سے نکلی ہوئی باتیں ہی تو ہیں۔“(1)
منہ میں خاک ڈال دو:
(6061)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن ابی شبیب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ایک شخص حضرتِ سیِّدُنا 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… ترمذی، کتاب الایمان ، باب ماجا ء فی حرمة الصلاة ، ۴/ ۲۰۸،حدیث: ۲۶۲۵ ،بتغیر قلیل