سیِّدُنا میمون بن ابو شبیب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مرویات
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی، حضرتِ سیِّدُنا معاذ، حضرتِ سیِّدُنا مِقداد، حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود، حضرتِ سیِّدُنا عمار، حضرتِ سیِّدُناابو ذر، حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عباس، حضرتِ سیِّدُنا مُغِیرہ بن شُعْبہ، حضرتِ سیِّدُنا سَمُرہ بن جُندب اور اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے روایات لیں۔
آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رحم دلی:
(6057)…امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علیُ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں: مجھے قیدیوں میں سے ایک لونڈی ملی، اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا، میں نےارادہ کیا کہ لونڈی کو بیچ دوں گا اور اس کے بچے کو پاس رکھ لوں گا تو حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: دونوں کو بیچ دو یا دونوں کو پاس رکھ لو۔(1)
(6058)…حضرتِ سیِّدُنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے نصیحت کیجئے؟ ارشاد فرمایا: ”جہاں کہیں بھی ہو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتے رہو اور گناہ کر بیٹھو تو اس کے بعد نیکی کرو کہ وہ گناہ کو مٹا دیتی ہے اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سےپیش آؤ۔“(2)
(6059)…حضرتِ سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: تاجدارِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے یمن بھیجا تو مجھے نصیحت کرتے رہے حتّٰی کہ آپ کی آخری نصیحت یہ تھی: ”اچھے اخلاق کو لازم پکڑ لو کیونکہ جن لوگوں کا اخلاق اچھا ہوتا ہے ان کا دین بھی اچھا ہوتا ہے۔“(3)
زبان کی آفت:
(6060)…حضرتِ سیِّدُنا معاذبن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: میں غزوۂ تبوک میں سرورِ عالَم، نورِ مُجَسّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےساتھ گیا، میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تنہائی میں دیکھا تو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الکبرٰی للبیھقی، کتاب السیر ، باب التفریق بین امرأة ولدھا، ۹/ ۲۱۲،حدیث: ۱۸۳۰۷
2… معجم کبیر، ۲۰/ ۱۴۴ ، حدیث: ۲۹۶
3… معجم کبیر، ۲۰/ ۱۴۴، حدیث:۲۹۵