حضرتِ سیِّدُنامَیْمُون بن ابو شَبِیْب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُجِیْب
حضرتِ سیِّدُنا میمون بن ابو شبیب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی تابعی بزرگ اورپاک دامن،سمجھدار اور اعلیٰ اخلاق والے فقیہ ہیں۔ آپ جماجم کے دن شہید ہوئے۔
غیبی تصدیق:
(6055)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن ابی شبیب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:ایک مرتبہ میں نے حجاج کے زمانے میں نماز جمعہ کا ارادہ کیا اور جانے کی تیاری کرنے لگا پھر میں نے کہا: میں کہاں جارہا ہوں؟ میں اس کے پیچھے نماز پڑھوں گا۔۔؟ کبھی کہوں کہ جاؤں اور کبھی کہوں کہ نہ جاؤں بالآخر جانے کا فیصلہ کر لیا، اتنے میں گھر کے ایک گوشے سے کسی منادی نے یہ ندا دی:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللہِ (پ۲۸،الجمعة:۹)
ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن تواللہ کے ذکر کی طرف دوڑو ۔
چنانچہ یہ سن کر میں چلا گیا۔
مزید فرماتے ہیں: میں ایک مرتبہ بیٹھا کچھ لکھ رہا تھاکہ ایک ایسی بات آگئی جسے لکھتا ہوں تو میری تحریر خوب نکھر جاتی ہے مگر میں جھوٹا ہو جاتاہوں اور اگر نہیں لکھتا تو حُسنِ تحریر میں کچھ نَقْص آتا ہے لیکن میں سچا ہوتا ہوں،کبھی سوچتا ہوں لکھوں اور کچھی سوچتا ہوں نہ لکھوں بالآخر نہ لکھنے کا فیصلہ کر لیتا ہوں تو گھر کے ایک گوشے سے یہ آواز آتی ہے: یُثَبِّتُ اللہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ ۚ (پ۱۳،ابراھیم:۲۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ ثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات پر دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں۔
مسلمانوں کی خیرخواہی:
(6056)…حضرتِ سیِّدُنا ابراہیمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا میمون بن ابو شبیب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس جب بھی کوئی کھوٹا درہم آتاتو اسے توڑ دیتے۔