Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
455 - 475
سیِّدُنا موسٰی بن طلحہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مرویات
	حضرتِ سیِّدُنا موسٰی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے  اپنے والد حضرتِ سیِّدُنا طلحہ  جو کہ عشرہ مبشرہ سے ہیں اور حضرتِ سیِّدُنا ابو ایوب انصاری اور دیگر صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے روایات لیں۔
	اور تابعین میں سے حضرتِ سیِّدُنا ابو اسحاق ، حضرتِ سیِّدُنا سِماک بن حَرْب، حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن عبداللہ بن مَوہِب، حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن حکیم اور حضرتِ سیِّدُنا ابو مالک اَشجعی رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایات لیں۔
(6048)…حضرتِ سیِّدُنا طلحہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:میں حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ کھجور کے باغ میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا،آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے استفسار فرمایا:  یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے عرض کی:  یہ لوگ کھجوروں میں قلم  لگا رہے ہیں یعنی نر کھجور کی شاخ کو  مادہ کھجور کی شاخ کے ساتھ ملاتے ہیں جس سے وہ پھل دار ہو جاتی ہے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: میرے خیال میں یہ ان کو  کچھ فائدہ نہ دے گا۔ ان لوگوں کو یہ بات بتائی گئی تو انہوں نے اس کام کو چھوڑ دیا،اس وجہ سے اس سال زیادہ پیداوار نہیں ہوئی، جب رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ بات بتائی گئی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اگر اس طریقے سے یہ عمل ان کو فائدہ دیتا ہے تو اس کو کرتے رہیں میرا تو ایک خیال تھا تم اس پر عمل نہ کرو  لیکن جب میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے کوئی حکم بیان کروں تو اسے  اختیار کرو کیونکہ میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر ہرگز جھوٹ نہیں بولتا(1)۔(2)
درود کیسے پڑھیں؟ 
(6049)…حضرتِ سیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ہم نے  عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… یعنی ہمارے فرمان دوقسم کے ہیں:شرعی احکام اور دنیوی رائے شریف۔شرعی احکام لازم العمل ہیں کیونکہ وہاں نبوت اور نورانیت کا لحاظ ہے مگر رائے مبارک کا قبول کرنا مستحب ہے نہ ماننے کا بھی اختیار ہےلیکن برا یاحقیرجاننا اس کا بھی کفر ہوگا۔یہی اہل سنت کا عقیدہ ہے اور یہی اس حدیث کا مطلب ہے کہ میرا کلام قرآن کو منسوخ نہیں کرسکتا،یعنی رائے اور مشورےکیونکہ رائے میں حضور کی بشریت کی جلوہ گری ہے۔(مراۃ المناجیح،۱/۱۵۲)
2… مسلم ، کتاب الفضائل، باب امتثال ما قالہ شرعا...الخ، ص۱۲۸۶، حدیث:۲۳۶۱