Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
454 - 475
(۴)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ  بن ہریم سلولی رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام۔
(6043)…حضرتِ عاصم بن ابی نجودرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:تین افراد بہت فصیح اللسان تھے: (۱)… حضرتِ سیِّدُنا موسٰی بن طلحہ(۲)…حضرتِ سیِّدُناقبیصہ بن جابر اور (۳)…حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ بن یعمر رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام۔
(6044)…حضرتِ سیِّدُنا خالد بن سمیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: جب مختار کوفہ سے چلا گیا تو حضرتِ سیِّدُنا موسٰی بن طلحہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہمارے پاس آئے، لوگ انہیں اپنے زمانے کا مہدی سمجھتے تھےلہٰذا لوگ ان کے پاس امنڈ آئے،آپ بہت خاموش رہنے، بہت کم بولنے اور بہت زیادہ غمگین وافسردہ رہنے والے تھے۔
سیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے زخم: 
(6045)…حضرتِ سیِّدُنا موسٰی بن طلحہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جب (غزوہ احد سے) واپس آئےتو ان کے جسم پر ضربوں، نیزوں اور تیروں کے35 یا 37 زخم تھے ایک زخم ان کی پیشانی میں بھی تھا جبکہ کوئی رگ کٹ جانے کی وجہ سے ایک ہاتھ کی انگلیاں بھی شل ہو گئی تھیں۔
(6046)…ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا عُمَر بن عبدالعزیزرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے  حضرتِ سیِّدُنا ابو بردہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا: کیاکوفہ میں آپ کا ہم عُمْر اور ہم مرتبہ کوئی  شخص باقی بچاہے؟ گویا آپ کے نزدیک کوئی اور ایسا نہیں تھا ۔تو کسی نے کہا:ہاں،حضرتِ سیِّدُنا موسٰی بن طلحہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ موجود ہیں۔
قیمتی خزانہ:
(6047)…حضرتِ سیِّدُنا موسٰی بن طلحہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:ایک کلمہ ایسا ہے جو زیر عرش خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے، جب بندہ اسے کہتا ہے توخود کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حوالے کر کے اس کی حفاظت میں آجاتا ہے وہ کلمہ یہ ہے:” لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ  یعنی گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی  کی توفیق سے ہے۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت دنیاکی تعریف
٭…دنیاکی وہ محبت جواُخروی نقصان کاباعث ہو(قابِل مذمت اوربُری ہے)۔(احیاء العلوم،۳/ ۲۴۹)