Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
449 - 475

حضرتِ سیِّدُنا رِبعی بن حِراش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ 
	حضرتِ سیِّدُنا ربعی بن حراش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ قبیلہ عَبْس سے تعلق رکھنے والے، عبادت گزار تابعی ہیں جنہوں نے خوش لباسی اور دنیا کے مال سے دوری اختیار کی اور نرم بستر وں کو چھوڑدیا ۔
موت کے بعد کلام:
(6030)…حضرتِ سیِّدُنا ربعی بن حراشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ہم چار بھائی تھے، ہمارے ایک بھائی ربیع ہم میں سب سے زیادہ  نما زیں پڑھتے اور سخت گرمیوں میں ہم میں سب سے زیادہ روزے رکھتے تھے، جب ان  کا انتقال ہوا  تو ہم ان کے گرد جمع ہو گئے اورایک شخص کو کفن خریدنے کے لئے بھیج دیا اچانک ہی بھائی ربیع نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم۔ لوگوں نے کہا:وَعَلَیْکُمُ السَّلَام اےعبسی بھائی! کیا تم مرنے کے بعد کلام کر رہے ہو؟اس نے کہا: جی ہاں ، میں تمہارے بعد  اپنے ربّ عَزَّ  وَجَلَّ سے بہت اچھی حالت میں ملا میرا رب ناراض نہیں تھا، اس نے راحت ، پھول اور ریشم سے میرا استقبال کیا، سنو! حضرت ابو القاسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میری نماز جنازہ کا انتظار فرما رہے ہیں، لہٰذا میری نماز جنازہ میں جلدی کرو دیر نہ کرو۔ اس گفتگو کے بعد مجھے ان کی جدائی ایسے لگی جیسے بس ایک کنکری کو پانی میں پھینک دیا ہو، ہم نے اس بات کو اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے آقائے دوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوفرماتے سنا کہ’’میری امت میں ایک شخص مرنے کے بعد کلام کرے گا۔‘‘(1)
اُمُّ المؤمنین کی تصدیق:
(6031)…حضرتِ سیِّدُنا ربعی بن حراشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میرے بھائی کا انتقال ہو گیا تو ہم نے اس پر کپڑا ڈال دیا  اور میں ان کے کفن کا بندوبست کرنے چلا گیا جب میں واپس آیا تو اس نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور کہا: میں تمہارے بعد اپنے ربّعَزَّ  وَجَلَّ سے ملا  اس نے راحت اور پھولوں کے ساتھ  مجھ سے ملاقات کی اور میرا  ربّ ناراض نہیں تھا  اور مجھے موٹے اور باریک ریشم کا سبز لباس پہنایا اورتمہارے دلوں میں جو خوف ہے یہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ آسان ہے بس تم غفلت نہ کرنا اور حضور نبی پاک، صاحب
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… دلائل النبوة لابی نعیم، الفصل التاسع و العشرون، قصة ربيع اخى ربعى بن خراش، ص ۳۴۷، حدیث :۵۳۶