Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
445 - 475
حضرتِ سیِّدُنا ابو صالح حنفی ماہان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن
	تسبیح و تحمید کو دل سےمحبوب رکھنے اور اسی کی حالت میں انتہائی سخت اذیت سے دوچار ہونے والے حضرتِ سیِّدُناابو صالح ماہان حنفیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبھی تابعین کرام میں سےہیں۔منقول ہےکہ آپ کااسْمِ گرامی عبدالرحمٰن بن قیس ہے اور آپ حضرتِ سیِّدُناطلیق بن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بھائی ہیں۔ 
(6015)…حضرتِ سیِّدُنا محمد بن فضیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا ماہان حنفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:کیا تمہیں حیا نہیں آتی کہ تمہاری سواری اور لباس تم سے زیادہ اللہ کا ذکرکر تے ہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تسبیح، تکبیر اور تہلیل میں سستی نہیں کرتے تھے۔
سولی پر بھی ذکر: 
(6016)…بنو حَنَفِیَّہکے موذن حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:حَجَّاج نے حضرتِ سیِّدُنا ماہان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰنکوان کے دروازے پر سولی کا حکم دیا، جب انہیں تختہ دار پر چڑھایا گیا تو میں نے دیکھا  تسبیح ، تہلیل اورتکبیر  کہتے ہوئے اسے ہاتھ پر شمار کر رہے ہیں حتّٰی کہ جب 29 تک پہنچے تواسی حال میں ایک شخص نے انہیں نیزہ ماردیا۔ پھر میں نے انہیں ایک مہینے بعد دیکھا تو انہوں نے  ہاتھ سے 99 کا عقد بنایا ہوا تھا اور ہمیں رات کے وقت ان کے پاس چراغ جیسی روشنی دکھائی دیتی تھی۔
(6017)…حضرتِ سیِّدُنا محمد بن فضیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک شخص کے حوالے سے روایت کرتے ہیں: جب حجاج نے حضرتِ سیِّدُنا ابو صالح ماہان حنفیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو سولی دی  تو میں نے دیکھا کہ  آپ تسبیح پڑھتے ہوئےاسے ہاتھوں پر شمار کر رہے ہیں جب 33 تک پہنچے تو ایک شخص نے ان کو نیزہ مار کر قتل کر دیا، میں نے کچھ عرصے بعد دیکھا تو ان کے ہاتھ میں ذکر شمار کرنے والا عقد ویسے ہی  تھا۔ راوی نے اپنے ہاتھ کے اشارے سےوہ عقد بنایا ۔
(6018)…حضرتِ سیِّدُنا ابو اسحاق شیبانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں: جب ابن ابو مسلم نے حضرتِ سیِّدُنا ابو صالح ماہان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو سولی دینے کا ارادہ کیا تو میں ان کے قریب ہو گیا تو انہوں نے فرمایا: اے  بھتیجے! دور ہو جاؤ اس مقام کے بارے میں کچھ مت پوچھنا۔