تقدیر کا لکھا ہو کر رہتا ہے:
(6010)…حضرتِ سیِّدُنا جریر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے: ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کی : میں مشرکین سے ایک گانے والی لونڈی کے ساتھ جدا ہوا، میں اسے بازار میں بیچنا چاہتا ہوں اور میں اس سے عَزَل کرتا ہوں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا: اس کو پہنچ کر رہے گا جو اس کے لئے لکھا جا چکا۔(1)
آگ کی لپٹ:
(13-12-6011)…حضرتِ سیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہےکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےمحبوب، دانائےغیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےفرمایا: جب دوزخیوں کو دوزخ کی طرف لایا جائے گا وہ انہیں گردنوں سے پکڑے گی اوران پر ایک ایسی لپٹ مارے گی کہ ان کی ہڈیوں کا گوشت جدا کر کے ان کی ایڑیوں پرڈال دے گی۔(2)
(6014)…حضرتِ سیِّدُنا اُبَی بن کَعْب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس دجال کا ذکر ہوا یا فرمایا: حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اس کی ایک آنکھ گویا کہ سبز شیشے کی طرح ہے اور عذاب قبر سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگو۔(3)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حقیقی شکرکیاہے؟
٭…حضرتِ سیِّدُناشیخ ابوبکرشبلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتےہیں:شکریہ ہےکہ نظرنعمت عطاکرنےوالےپر ہونہ کہ نعمت پر۔(احیاء العلوم،کتاب الصبروالشکر،۴/ ۱۰۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… معجم کبیر، ۲/ ۳۲۷ ،حدیث:۲۳۷۰
2… معجم اوسط، ۱/ ۹۲، حدیث: ۲۷۸
3…مسنداحمد، مسند الانصار، ۸/ ۲۵،حدیث:۲۱۲۰۳