Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
441 - 475
	حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابو ہذیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا عمر َضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس کی تفسیر میں فرمایا: (حضرت شعیب عَلَیْہِ السَّلَام کی بیٹی جب حضرت موسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کو لے کر گئیں تو)اپنی اوڑھنی یا آستین  کے ساتھ چہرہ چھپائے ہوئے تھیں۔
دوزخ میں بیکار لوگ جائیں گے:
(5999)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابو ہذیلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کی: اے میرے ربّ! تو نے مخلوق کو پیدا کیا ، وہ تیرے بندے ہیں پھر تو ان کو جہنم میں کیونکر جلائے گا؟ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: اے موسٰی! کھیتی اُگاؤ۔ موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی : میں نے اُگا لی۔ارشاد ہوا: اسے کاٹ لو۔ عرض کی: کاٹ لی۔حکم ہوا: اس کا ڈھیر لگا لو۔ عرض کی:  لگا لیا۔ پھر حکم ہوا: سب اٹھا لو کچھ چھوڑنا نہیں۔ عرض کی : اٹھا لیا۔ ارشادفرمایا: دیکھو شاید تم نے کچھ چھوڑا بھی ہے؟ عرض کی: وہی چھوڑا ہے جو کام کا نہیں تھا۔رب تعالیٰ نےفرمایا: میں بھی اپنے ایسے بیکار بندوں ہی کو جہنم میں ڈالوں گا۔
ظالم کے حکمران بننے کی وجہ:
(6000)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابو ہذیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: بخت نصر  کوجب بنی اسرائیل پر مسلّط کیا گیاتو انہیں  قیدی بنا کر حلقوں کی صورت میں بیٹھا دیا گیا،ان کے پاس سے ان کے نبیعَلَیْہِ السَّلَام کا گزر ہوا تو یہ لوگ  انہیں دیکھ کر رونے اور چیخ وپکار کرنے لگے۔ بُخْت نَصر نے سنا تو پوچھا: انہیں کیا ہوا ہے؟ کہا گیا: ان کے نبی ان کے پاس سے گزرے ہیں۔  بخت نصر نے کہا: انہیں میرے  پاس لاؤ۔(جب وہ تشریف لائے تو) اس نے کہا: مجھے کس وجہ سے آپ کی قوم پر مُسلّط کر دیا گیا ہے؟ نبیعَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: تیرے بڑے گناہوں اور میری قوم کے اپنی جانوں پر ظلم کرنے کی وجہ سے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبرکےدرجات
٭…بعض عارفینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْننےصبرکےتین درجات بیان فرمائےہیں:(۱)…خواہش کوترک کرنا۔یہ توبہ کرنےوالوں کادرجہ ہے۔(۲)…جوکچھ عطاکیاگیااس پرراضی رہنا۔یہ زاہدین کادرجہ ہے۔(۳)…خالِقِ حقیقی سےمحبت کرنا۔یہ صدیقین کادرجہ ہے۔(احیاء العلوم،کتاب الصبروالشکر،۴/۸۵)