صاف ستھرے پرہیزگار نہیں؟آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کہا: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تیرا یہ بندہ میرے قرب کا ارادہ کرتا ہے اور میں تجھے اس کے بھولے پن پر گواہ بناتا ہوں۔
(5988)…حضرتِ سیِّدُنا ابن ابو ہُذیلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: یقیناً دوزخ نےعقلمند کو جنت کی یاد سے روک رکھا ہے۔
تین بزرگ تین حالتیں:
(5989)…حضرتِ سیِّدُنا عَوّام بن حَوشَبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے جب بھی حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم نَخْعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو دیکھا تو ایسے دیکھا گویا وہ غصہ میں ہیں اور مجھے نہیں یاد پڑتا کہ میں نے کبھی حضرتِ سیِّدُناابراہیم تیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیکوآسمان کی طرف سراٹھاتےدیکھاہواورحضرتِ سیِّدُناابن ابوہذیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو جب بھی دیکھا غمزدہ ہی دیکھا۔
(5990)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابوہذیلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف سے ہی کلام کرتا ہوں اور اس کے خوف سے ہی خاموش رہتا ہوں۔
(5991)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابو ہذیلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:ہم نے ایسے بزرگوں کی صحبت پائی ہے کہ ان میں سے ہر ایک رات کی تاریکی میں بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّسے حیا کرتا ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان فرماتے ہیں یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سامنے اپنی رسوائی کا اظہار کرتے ہیں۔
(5992)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابو ہذیلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں: اللہ عَزَّ وَجَلَّ ضرور پسند فرماتا ہے کہ اس کا ذکر بازار میں بھی کیا جائے اور وہ ہر حال میں اپنا ذکر کیا جانا پسند کرتا ہے سوائے بیْتُ الخلا کے۔
اللہعَزَّ وَجَلَّکاخوف :
(5993)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابو ہذیلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ایک بزرگ تھے،جب نماز کے وقت ان سے کہا جاتا: امامت کروائیں تو وہ منع کر دیتے، ان سے عرض کی جاتی: منع کیوں کیا؟ تو فرماتے: مجھے خوف ہوا کہ کوئی گزرنے والا یہ نہ کہہ دے: لوگوں میں یہ افضل ہے جب ہی انہوں نے اسے امام بنایا ہے۔
(5994)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابو ہذیلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: اسلاف میں سے جب کوئی