Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
438 - 475
 اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تشریف آوری ہوگئی اور ہمارے طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا:تم کوئی بات کر رہے تھے؟ میں نے انصار کی بات  گوش گزار کی تو آپ نے انصار کے لئے  فرمایا: تم نے سچ کہا بھلا تمہاری بات کا کون انکار کر سکتا ہے۔ پھر میں نے اپنے مہاجر بھائیوں کی بات بتائی تو آپ نے ان سے فرمایا:انہوں نے سچ کہا ان کی بات کا بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔پھر میں نے اپنے بنو ہاشم بھائیوں کی بات بتائی تو ارشاد فرمایا: انہوں نے بھی سچ کہا اور ان کی بات کا بھی انکار نہیں۔ پھرارشاد فرمایا: کیا میں تمہارے مابین فیصلہ نہ کر دوں؟  ہم نے عرض کی: کیوں نہیں، یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:اے گروہِ انصار! میں تمہارا بھائی ہوں۔ انصارنے کہا : اَللہُ اَکْبَرْ  ربِّ کعبہ  کی قسم!ہم بازی لے گئے۔ پھر ارشاد فرمایا: اےگروہِ مہاجرین! میں بھی تو تم میں سے ہی ہوں۔ مہاجرین نے کہا: اَللہُ اَکْبَرْ  ربِّ کعبہ  کی قسم!ہم بازی لے گئے۔ پھر ارشاد فرمایا: اے بنو ہاشم! تم مجھ سے ہو اور میری ہی طرف ہو۔ چنانچہ ہم سب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فیصلے پرراضی خوشی کھڑے ہو گئے۔(1)

٭…٭…٭…٭…٭…٭

حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابو ہُذیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ 
	تابعین کرام میں سے ایک حضرتِ سیِّدُنا عبداللہبن ابو ہُذیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبھی ہیں آپ اپنے وقت سے خوب فائدہ اٹھاتے اور عبادات کو پوشیدہ رکھتے تھے۔
(5986)…حضرتِ سیِّدُنا ابو فَرْوَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ہم حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن ابو ہذیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس بیٹھے ہوتے اور کوئی شخص  آ کر لا یعنی گفتگو کرتا تو آپ فرماتے :اے اللہ کے بندے! ہم یہاں اس لئے نہیں بیٹھے۔
(5987)…حضرتِ سیِّدُناابو سِنان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان فرماتے ہیں:ایک دن حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن ابوہُذیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنی خطاؤں کی شکایت کر رہے تھے کہ ایک شخص نے ان سے کہا: اے ابو مُغِيْرہ! کیا آپ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…معجم کبیر،۱۹/ ۱۳۳،حدیث:۲۹۳