حضرتِ سیِّدُنا کَعب بن عُجْرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: جب یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی تو ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کی:یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ پر سلام بھیجنا تو ہم نے جان لیا لیکن آپ پر درود کیسے پڑھیں؟آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اس طرح پڑھو: اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى اٰلِ مُحَمَّدٍكَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌوَبَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى اٰلِ مُحَمَّدٍكَمَا بَارَكْتَ عَلٰى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ یعنی اے اللہعَزَّ وَجَلَّ ! درود بھیج محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) پر اور ان کی آل پر جس طرح تو نے درود بھیجا ابراہیم پر اور ان کی آل پر بے شک تو سراہا ہوا بزرگ ہے اور برکت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر جس طرح تو نے برکت نازل کی ابراہیم اور ان کی آل پر بے شک تو سراہا ہوا بزرگ ہے۔(1)
افضل و محبوب قبائل:
(5985)…حضرتِ سیِّدُنا کَعب بن عُجْرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: ایک دن ہم مسجد میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دروازے کے سامنے بیٹھے تھےہم میں کچھ انصار، کچھ مہاجرین اور کچھ بنو ہاشم بیٹھے تھے، ہمارے درمیان اس بات پر بحث ہوئی کہ حضور نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نزدیک کون افضل و محبوب ہے ، ہم نے کہا: ہم گروہ انصار ہیں، ہم ان پر ایمان لائے، ان کی اتباع کی، ان کے ساتھ جہاد کیا اور ان کے دشمن کے مقابلے میں ہم حضور کی فوج کا بڑا حصہ ہوتے تھےلہٰذا ہم رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نزدیک افضل و محبوب ہیں۔ ہمارے مہاجرین بھائیوں نے کہا: ہم وہ ہیں جنہوں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ہجرت کی، اپنا خاندان ، اہل وعیال گھر بار سب کچھ چھوڑ دیا اور جہاں جہاں تم نے حضور کا ساتھ دیاوہاں ہم بھی موجود رہے اور ہم نے بھی وہی گواہی دی جو تم نے دی ہے لہٰذاہم رسولُ اللہ کے نزدیک افضل و محبوب ہیں۔ ہمارے بنو ہاشم کے بھائیوں نے کہا: ہم رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خاندان سے ہیں، ہم بھی وہاں حاضر تھے جہاں تم حاضر تھے اور ہم نے بھی وہی گواہی دی جو تم نے دی ہےلہٰذا ہم رسولُ اللہ کے نزدیک افضل و محبوب ہیں۔ اتنے میں پیارے آقا صَلَّی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… نسائی،کتاب السھو،باب کیف الصلٰوة علی النبی ، ص ۲۲۱،حدیث:۱۲۸۵