حکایت: قربانی کابہترین صلہ
(5975)…حضرتِ سیِّدُناعبدالرحمٰن بن ابولیلیٰرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:بنی اسرائیل کاایک شخص پھاوڑے سے کام کر رہا تھا کہ اچانک وہ اس کے باپ کو لگ گیا اور اس کا سرزخمی ہو گیا، تو اس شخص نے اپنے ہاتھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: جو میرے باپ کے ساتھ ایسا کرے وہ میرے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ اس نے اپنا ہاتھ کاٹ دیا، یہ بات بنی اسرائیل میں مشہور ہو گئی۔ ادھربادشاہ کی بیٹی نے بیت المقدس میں نماز پڑھنے کا ارادہ کیا تو بادشاہ نے کہا: اس کے ساتھ کس کو بھیجوں؟لوگوں نے کہا : فلاں شخص کو۔ بادشاہ نے اس کو بلوا لیا تو اس نے کہا : مجھے تو اس کام سے معاف ہی رکھئیے،بادشاہ نےماننے سے انکار کر دیا تو اس شخص نے کہا : اچھا مجھے چند دن کی مہلت دے دیجئے۔چنانچہ وہ گیا اور اپنا عضوِ تَناسُل کاٹ دیا، جب زخم ٹھیک ہو گیا تو اس نے اپنا عضو ایک ڈبیہ میں ڈال کر مُہر بند کیا اور بادشاہ کے پاس آکر کہا: یہ میری امانت ہے اسے اپنے پاس محفوظ رکھئیے گا۔ بادشاہ نے اسے راستے کے بارے میں بتایا کہ یہاں یہاں رکنا اور اتنے اتنے دن رکنا جب وہاں پہنچ جاؤ تو اتنے اتنے دن رکنا حتّٰی کہ ہر دن کی مدت معین کر دی، جب بادشاہ کی بیٹی چلی تو اس نے اس کی پابندی نہیں کی اور اپنی مرضی سےجہاں جتنا چاہتی قیام کرتی اور یہ اس کی چوکیداری کے لئے اس کے پاس ہی سو جاتا۔ جب سفر مکمل کر کےواپس بادشاہ کے پاس آیا تو لوگوں نے باد شاہ سے کہا : یہ لڑکی کے پاس سوتا رہا ہے۔ بادشاہ نے کہا: تو نے میری مخالفت کی ہے اور اس کے قتل کا ارادہ کر لیا، اس شخص نے کہا: میری امانت مجھے لوٹا دیجئے، جب امانت اسے دی گئی تو اس نے اس ڈبیہ کو اپنی ہتھیلی پر رکھ کر سب کے سامنے کھول دیا تو یہ بات بھی بنی اسرائیل میں مشہور ہو گئی۔ پھر جب ان لوگوں کے قاضی کا انتقال ہو گیا تو انہوں نے کہا: ہم اس کی جگہ کس کو مقرر کریں؟ لوگو ں نے اسی شخص کو قاضی بنانے کا فیصلہ کیاتو اس نے منع کر دیا،لوگ اصرار کرتے رہے حتّٰی کہ اس نے کہا: اچھامجھے چھوڑوسوچنے کا موقع دو۔ چنانچہ اس نے اپنی آنکھوں میں کچھ ڈالا جس سے وہ نابینا ہو گیا، پھر منصب قضا قبول کر لیا۔ ایک رات وہ کھڑا ہوا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا کی: اے اللہ!اگر میں نے یہ سب تیری رضا کے لئے کیا ہے تو یہ سب پہلے سے اچھی صورت پر مجھے لوٹا دے۔ جب اس نے صبح کی تو دیکھااللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کی بینائی اور آنکھوں کی پتلیاں پہلے سے خوبصورت کر دی ہیں اور اس کا ہاتھ اورعضو تناسل بھی لوٹا دیاہے۔