ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ ﴿ۚ۹﴾ (پ۲۸،الحشر:۹)
ترجیح دیتے ہیں اگرچہ اُنہیں شدید محتاجی ہو اور جو اپنے نفس کی لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہیں۔
حضرتِ سیِّدُناعثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبھی ان کامیاب لوگوں میں سے ایک ہیں۔
(3)… وَ الَّذِیۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعْدِہِمْ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالْاِیۡمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّکَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۱۰﴾ (پ۲۸،الحشر:۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان: اور وہ جو ان کے بعد آئے عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ اے رب ہمارےبے شک تو ہی نہایت مہربان رحم والا ہے۔
حضرتِ سیِّدُناعثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ان میں بھی شامل تھے۔حجاج نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔
شبِ قدر کی فضیلت:
(5973)…فرمانِ باری تعالیٰ ہے:سَلٰمٌ ۟ۛ ہِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ ٪﴿۵﴾ (پ۳۰،القدر:۵)
ترجمۂ کنز الایمان:وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک۔
حضرتِ سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن ابولیلیٰرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں: شیطان اس رات میں تنگ نہیں کر سکتے، جادو اس رات میں اثر نہیں کرتا اور نہ کوئی نقصان ہوتاہے، یہ رات صبح چمکنے تک سلامتی ہے۔
(5974)… فرمانِ باری تعالیٰ ہے: وَ جَآءَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّعَہَا سَآئِقٌ وَّ شَہِیۡدٌ ﴿۲۱﴾ (پ۲۶،قٓ:۲۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہر جان یوں حاضر ہوئی کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا اور ایک گواہ۔
حضرتِ سیِّدُنا ابن ابولیلیٰرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاس کی تفسیر میں فرماتے ہیں: جب تم میں سے کوئی تنہا ہو تو اپنے ساتھی(یعنی کرامًا کاتبین) کویوں کہے: اللہ عَزَّ وَجَلَّتم پر رحم فرمائے لکھو! تو وہ بھلائی ہی لکھیں گے۔