الرِّضْوَان سے ملاقات کی ہے۔
(5971)…حضرتِ سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ حضرتِ سیِّدُنا ابن ابولیلیٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ چبوترے پر لوگوں کے درمیان بیٹھے تھے اور لوگ آپ سے کہہ رہے تھے جھوٹوں پر لعنت کیجئے۔ آپ کا جسم کچھ موٹا تھا اور آپ کو دمہ کا عارضہ بھی لاحق تھا، آپ نے کہا: اے اللہ جھوٹوں پر لعنت کر۔ اتنا کہا اور خاموش ہو گئے۔
فضیلت ِعثمانِ غنیرَضِیَ اللہُ عَنْہ:
(5972)…حضرتِ سیِّدُنا مُجَمِّع بن یحییٰ انصاریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن ابو لیلیٰرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہحجاج کے دربار میں آئے تو حجاج نے کہا:اگر تم ایسے شخص کو دیکھنا چاہتے ہو جو امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن عفانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو برا کہتا ہے تو وہ یہ ہے۔حضرتِ سیِّدُناابن ابو لیلیٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں میں نے اس سے کہا:ان کو برا کہنے سے مجھے قرآن پاک کی یہ تین آیات منع کرتی ہیں:
(1)… لِلْفُقَرَآءِ الْمُہٰجِرِیۡنَ الَّذِیۡنَ اُخْرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمْ وَ اَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُوۡنَ فَضْلًا مِّنَ اللہِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنۡصُرُوۡنَ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوۡنَ ۚ﴿۸﴾ (پ۲۸،الحشر:۸)
ترجمۂ کنز الایمان: ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے اللہکا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہورسول کی مدد کرتے وہی سچے ہیں۔
حضرتِ سیِّدُناعثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبھی ان ہی میں سے تھے۔
(2)…وَ الَّذِیۡنَ تَبَوَّؤُا الدَّارَ وَ الْاِیۡمَانَ مِنۡ قَبْلِہِمْ یُحِبُّوۡنَ مَنْ ہَاجَرَ اِلَیۡہِمْ وَ لَا یَجِدُوۡنَ فِیۡ صُدُوۡرِہِمْ حَاجَۃً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَ یُؤْثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ ؕ۟ وَ مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ
ترجمۂ کنز الایمان: اور جنہوں نے پہلے سے اس شہر اور ایمان میں گھر بنالیا دوست رکھتے ہیں انہیں جو ان کی طرف ہجرت کر کے گئے اور اپنے دلوں میں کوئی حاجت نہیں پاتے اس چیز کی جو دیئے گئے اور اپنی جانوں پر ان کو