حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن ابو لیلٰی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
حضرتِ سیِّدُناابو عیسٰی عبد الرحمٰن بن ابو لیلیٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی ایک تابعی بزرگ ہیں، آپ منتخب فقیہ اور قاضی تھے، آپ عہدۂ قضا کے امتحان میں ڈالے گئے تو آہ وبکا اور ندامت میں مشغول ہو گئے۔
منقول ہے:مصیبتوں میں صبر کے ساتھ آسانیوں کا انتظار کرنا تصوف ہے۔
اہل بصرہ کی فضیلت:
(5966)…حضرتِ سیِّدُنا ابن ابو لیلیٰرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں کئی شہروں میں گیا مگر اہل بصرہ سے بڑھ کر صبح سویرے اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کرنے اور کثرت سے تہجد ادا کرنے والے کسی شہر میں نہ پائے۔
(5967)…حضرتِ سیِّدُناامام اعمشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن ابو لیلیٰرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نماز پڑھ رہے ہوتے اور ان کے پاس آنے والا ان کے بستر پر سو جاتا۔
سخاوت:
(5968)…حضرتِ سیِّدُنا مجاہدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن ابو لیلیٰرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ایک ایسا گھر تھا جس میں کافی قرآن پاک رکھے ہوئے تھے، قراء کرام وہاں جمع ہوتے تھے اور کم ہی ایسا ہوتا کہ وہ کھانا کھائے بغیر چلے جائیں۔
(5969)…حضرتِ سیِّدُنا صالح بن محمد رازیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی حضرتِ سیِّدُنا ابن ابو لیلیٰرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ جب ان کو عہدۂ قَضا دیا گیا تو پہلے دن سوار ہو کر نکلے، لوگ آپ کو دیکھنے کے لئے جمع ہو گئے،اہل کوفہ کے ایک مجنون نے کہا : دیکھو اُس کی طرف جس کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آخرت کی ذلت کے بدلے دنیا میں خوشی جمع کر دی ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا ابن ابو لیلیٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اگر میں یہ بات پہلے سن لیتا تو کوئی ادنیٰ سا عہدہ بھی قبول نہ کرتا۔
صحابَۂ کرام سے ملاقات:
(5970)…حضرتِ سیِّدُناعبدالرحمٰن بن ابو لیلیٰرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں نے20 صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ