خلفائے اربعہ کی فضیلت:
(5928)…حضرتِ سیِّدُناسعید بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حراء پہاڑ پر تھے کہ وہ ہلنے لگا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حکم فرمایا: حراء ساکت ہو جا کہ تجھ پر نبی، صدیق اور شہید ہیں۔ وہ حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر، حضرتِ سیِّدُنا عمر، حضرتِ سیِّدُنا عثمان اور حضرتِ سیِّدُنا علی عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان تھے۔(1)
صلح حُدیبیہ کی شرائط:
(5929)…حضرتِ سیِّدُنا براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: سرکارِمدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اہل مکہ سے حُدیبیہ میں جمعہ کے دن تین باتوں پر صلح کی:(۱)… اہل مکہ سے جو (مدینے) آئے گا اسے واپس مکہ جانے دیا جائے گا (۲)…حضور نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اصحاب میں سے جو (مکہ) آئے گا اسے واپس نہیں جانے دیا جائے گا اور (۳)…اگلے سال حضور عَلَیْہِ السَّلَام مکہ تشریف لائیں گے تو آپ کے تمام رفقا کے ہتھیاروغیرہ ان کے تھیلوں میں ہوں گے۔(2)
سورۂ کہف کی فضیلت:
(5930)…حضرتِ سیِّدُنا براء بن عازِب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: ایک شخص رات میں سورۂ کہف کی تلاوت کر رہا تھا اچانک اس کی نظر اپنے جانور یااپنے گھوڑے پر پڑی(شک راوی) تو وہ زمین پر پاؤں مار رہاتھا اوردھند یا بادل کی مثل ایک گھٹا چھائی ہوئی تھی۔ جب اس نے یہ بات حضور نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے ذکر کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: وہ سکینہ تھا جو قرآن کی وجہ سے، یا فرمایا: قرآن پر نازل ہو رہا تھا۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… ابن ماجہ ، کتاب السنة، باب فضائل العشرة رضى الله عنھم، ۱/ ۹۲، حدیث:۱۳۴
مسنداحمد، مسند سعید بن زید، ۱/ ۳۹۹،حدیث:۱۶۳۸،بتغیر قلیل
2… بخاری، کتاب الصلح ، باب الصلح مع المشرکین، ۲/۲۱۲،حدیث:۲۷۰۰، دون ’’ یوم الجمعة‘‘
3…بخاری، کتاب التفسیر، باب ”ھو الذی انزل السکینة فی قلوب المؤمنین“، ۳/ ۳۲۹،حدیث:۴۸۳۹
مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب نزول السکینة للقراٰن، ص ۳۹۹،حدیث:۷۹۵