احادیث سناتے تھے۔
(5908)…حضرتِ سیِّدُنا ابواسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق فرماتے ہیں: میں زیاد کے زمانے میں چھ یا سات جنگوں میں شریک ہوا اورزیاد کا انتقال حضرتِ سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پہلے ہوا تھا۔
آپرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکی وفات:
(5909)…حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر بن عَیَّاش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ہم نے حضرتِ سیِّدُنا ابواسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق کو 126یا 127 ہجری میں خَوارِج کے زمانے میں دفن کیا۔
(5910)…حضرتِ سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اور حضرتِ سیِّدُنا ابو اسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق ایک جگہ اکٹھےہوئے تو حضرتِ سیِّدُنا شَعْبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: اے ابو اسحاق! آپ مجھ سے بہتر ہیں۔ انہوں نے فرمایا: خدا کی قسم! میں آپ سے بہتر نہیں بلکہ آپ مجھ سے بہتر اور بڑے ہیں۔
(5911)…حضرتِ سیِّدُنا ابو اسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاقنے فرمایا:40سال سے میری آنکھیں بند نہیں ہوئیں۔
کثرتِ تلاوت:
(5912)…حضرتِ سیِّدُنا عَلاء بن سالِم عَبْدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا ابو اسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق وفات سے دو سال پہلےاتنے کمزور ہو گئے کہ خود سے کھڑے نہ ہو پاتے اور جب انہیں کھڑا کیا جاتا تو کھڑے کھڑے ایک ہزار آیات تلاوت کرتے۔
(5913)…حضرتِ سیِّدُنا عَون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرتِ سیِّدُنا ابواسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق سے پوچھا: آپ کے پاس کیا بچا؟آپ نے فرمایا: میں جب نماز پڑھتا ہوں تو ایک رکعت میں پوری سورۂ بقرہ پڑھتا ہوں ۔حضرتِ سیِّدُنا عون بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: آپ کا شر چلا گیا اور خیر باقی ہے۔
(5914)…حضرتِ سیِّدُنا ابواسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق فرماتے ہیں: مجھے سے نماز چلی گئی اور میں کمزور ہو گیا اب میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہوں تو صرف سورۂ بقرہ اور آلِ عمران ہی پڑھ پاتا ہوں۔
بڑھاپے میں روزے:
(5915)…حضرتِ سیِّدُنا ابواسحاقعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاقنے فرمایا: میں بوڑھااور کمزور ہو گیا ہوں اب میں