سے نکال کررات بھر جگالی کرتی رہتی ہیں حتّٰی کہ تھنوں میں دودھ اتر آتا ہے پھر حجاج نے حکم دیا کہ اگلے کو بھی آنے دو چنانچہ غلاموں میں سے ایک شخص داخل ہوا جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ اس دور کے لوگوں میں سب سے زیادہ سخت جان ہے۔ حجاج نے کہا : کیا تمہارے راستے میں بارش تھی؟اس نے کہا: جی ہاں ، لیکن میں ان لوگوں کی طرح اچھے انداز میں بیان نہیں کر سکتا۔ حجاج نے کہا: تو جیسے بتا سکتا ہے بتا؟اس نے کہا: میں حُلْوان پہنچا تو شدید بارش تھی چنانچہ میں اسے روندھتا ہوا امیر کے پاس آگیا۔ حجاج نے کہا: اگرچہ تو نے بارش کے بارے میں ان دونوں سےمختصر بات کی لیکن ان کے مقابلے میں تو نے تلوار اٹھائے زیادہ لمبا سفر کیا ہے۔
پسندیدہ شعر:
(5869)…حضرتِ سیِّدُنا شعبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس شعر کو بہت زیادہ پسند کرتے تھے:
لَيْسَتِ الْاَحْلَامُ فِي حِيْنِ الرِّضَا اِنَّمَا الْاَحْلَامُ فِيْ وَقْتِ الْغَضَبِ
ترجمہ:حلم وبردباری خوشی کی حالت میں نہیں ہوتی وہ تو غصے کے وقت پتا چلتی ہے۔
(5870)…حضرتِ سیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرمایا کرتے تھے:
اِذَا اَنْتَ لَمْ تَعْشَقْ وَلَمْ تَدْرِ مَا الْهَوٰى فَاَنْتَ وَعِيْرٌ بِالْفَلَاةِ سَوَاء
ترجمہ:جب تو نے عشق کیا ہی نہیں نہ تو یہ جانتا ہےکہ محبت کیا ہےتو پھر تواور جنگلی اونٹ دونوں برابر ہیں۔
سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی مرویات
حضرتِ سیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اکابر صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے ملاقات کی ہے ان میں سے چند کے نام درج ذیل ہیں:حضرتِ سیِّدُنا علی بن ابو طالب، حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابو وقاص، حضرتِ سیِّدُنا سعید بن زید بن عَمْرو بن نفیل، حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس، حضرتِ سیِّدُنا ابن عُمَر، حضرتِ سیِّدُنااسامہ بن زید، حضرتِ سیِّدُناعمرو بن عاص، حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عَمْرو بن عاص، حضرتِ سیِّدُنا جریر بن عبداللہ بجلی، حضرتِ سیِّدُنا جابر بن سَمُرہ، حضرتِ سیِّدُنا عدی بن حاتم، حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن مضرس، حضرتِ سیِّدُنا جابر بن عبداللہ، حضرتِ سیِّدُنا نعمان بن بشیر، حضرتِ سیِّدُنابراء بن عازب، حضرتِ سیِّدُنا عُقبہ بن عَمْرو،حضرتِ