ہاں، راستے میں تین جگہ بادل دیکھے۔حجاج نے کہا: مجھے بتا بارش کی کیفیت کیا تھی اور اس کا اثر کیسا تھا؟اس نے کہا: ایک بادل میں نے حَوْران میں پایا، بارش کے چھوٹے اور بڑے قطرے گرے، بڑے قطرے چھوٹوں کا حصہ بن گئے اور پھر مسلسل ایک جیسی برسنے لگی کوئی نہر بہنے لگی جبکہ کسی میں پانی کم تھا، بارش زمین پر لکیریں بن کے گر رہی تھی، دوسرا بادل میں نے مقامِ سِوا یا دو قبیلوں کے پاس پایا(شکِ راوی) اس نے نرم زمین کو سخت کر دیا اور سخت زمین سے بہنے لگی، ڈھلانوں کو پِھسْلَن والا کر دیا اور کھُمْبِیاں اپنی جگہ سے ظاہر ہونے لگیں تیسرے بادل کی صورتِ حال یہ تھی کہ اس نے چشموں کو جوش دے دیا خندقیں اور ندی نالے بھر گئے یوں سمجھ لیجئے کہ میں بِجُّو کے گڑھوں سے ہوتا ہوا آپ کے پاس آیا ہوں، پھر حجاج نےکہا: دوسرے کو بھی اندر آنے دو۔چنانچہ بنو اسد کا ایک شخص آگے بڑھا، حجاج نے کہا: کیا تمہارے راستے میں بھی بارش تھی؟اس نے کہا: نہیں ، سخت آندھی تھی، تمام شہر گرد وغبار سے بھرے تھے، تمام سبزہ اس آندھی نے برباد کر دیا تھا پس ہمیں یقین ہو گیا کہ یہ سال قحط کا ہے۔ حجاج نے کہا: تو نےتو بہت بری خبر سنائی ہے۔ اس نے کہا :جیسا تھا میں نے ویسا آپ کو بتا دیا۔ پھر حجاج نے کہا: ایک اور کو بھی اندر آنے دو۔ چنانچہ یمامہ کا ایک شخص آیا تو حجاج نے کہا: کیا تمہارے راستے میں بھی بارش تھی؟ اس نے کہا: نرم ولطیف ہوا نے چادر اوڑھ رکھی تھی اور آہستہ آہستہ بڑھتی جا رہی تھی اور میں نے کسی کہنے والے کو کہتے ہوئے سنا:آؤ میں تمہیں اس جگہ لے چلوں جہاں آگ بجھ جاتی ہے، عورتیں شکوہ کرتی ہیں اوروہاں بکریاں ایک دوسرے سے آگے بڑھتی ہیں۔
حضرتِ سیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: حجاج کو اس کی باتیں سمجھ نہ آئیں اور کہنے لگا: تیری ہلاکت ہو!تو اہل شام کی زبان بولتا ہے ان باتوں کی وضاحت کر۔ اس نے کہا:امیر کا اقبال بلند ہو! آگ بجھ جانے سے مراد یہ ہے کہ لوگ خوش حال ہو گئے پھل ،گھی، مکھن اور دودھ کثیر ہو گئے، روٹی پکانے کے لئے آگ نہیں جلائی جاتی اور عورتوں کے شکوے سے مراد یہ ہے کہ عورتیں جانوروں کو شام تک چراتی ہیں، ان کا دودھ دوھوتی ہیں اوربازؤوں کے درد کی وجہ سے رات بھر کراہتی رہتی ہیں گویاکہ بازو جسم کے ساتھ ہیں ہی نہیں اور بکریوں کے آگے بڑھنے سے مراد یہ ہے کہ وہاں مختلف قسم کے درخت ، پھل اور تر و تازہ پودےہیں کہ بکریاں انہیں کھاتی ہیں توان کاپیٹ توبھرجاتاہےلیکن آنکھیں نہیں بھرتیں،وہ اسی کو معدے