Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
405 - 475
گھیر لیا، ہمیں ہلاکتوں میں دھکیل دیا گیا جن میں  کوئی نیکوکارنہ کوئی گناہ گار (یعنی سب برابر کر دیئے گئے)۔حجاج نے کہا: خدا کی قسم ! تو نے سچ کہا،کوئی بھی نیک ہم پر خروج نہیں کرتا اور نہ کوئی فاجر اس کی طاقت رکھتا ہے چنانچہ اس نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی جان چھوڑ دی۔
	حضرتِ سیِّدُنا شعبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: اسے وراثت کا مسئلہ درپیش تھا، حجاج نے کہا: تم بہن ، ماں اور دادا کی وراثت کے بارے میں کیا کہتے ہو؟میں نے کہا: اس مسئلہ میںرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پانچ صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا اختلاف ہے حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن عفان، حضرتِ سیِّدُنازید بن ثابت، حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود، حضرتِ سیِّدُنا علی اور حضرتِ سیِّدُنا ابن عباسرِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن۔حجاج نے کہا: حضرت ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاس بارے میں کیا فرماتے ہیں کیونکہ وہ مفتی تھے؟ میں نے کہا :انہوں نے دادا کو باپ کے مرتبے میں رکھا ہے اور ماں کو تین حصے دیئے ہیں اور بہن کو محروم کیا ہے۔حجاج نے کہا : امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عثمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس بارے میں کیا فرمایا ہے؟میں نے کہا : انہوں نے اس کو تین تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔حجاج نے کہا: حضرت زید بن ثابترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ میں نے کہا: انہوں نے اس کو نو حصوں میں تقسیم کیا ہے ، ماں کو تین دادا کو چار اور بہن کو دو حصے دیئے ہیں۔ حجاج نے کہا: حضرتِ سیِّدُنا ابن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا موقف کیا ہے؟ میں نے کہا :انہوں نے اس کو چھ حصوں میں تقسیم کیا ہے بہن کو تین ماں کو ایک اور دادا کو دو حصے دیئے ہیں۔حجاج نے کہا : ابو تراب (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا: انہوں نے چھ حصوں میں تقسیم کیا ہے بہن کو تین دادا کو ایک اور ماں کو دو حصے دیئے ہیں۔ حجاج نے کہا: قاضی کو حکم دو کہ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عثمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے مؤقف پر فیصلہ کیا کرے۔ اتنے میں دربان داخل ہوا اور کہنے لگا : دروازے پر قاصد آئے ہوئے ہیں۔ حجاج نے کہا : ان کو اندرآنے دو۔چنانچہ وہ داخل ہوئےتوان کے سروں پر عمامے، کاندھوں پر تلواریں اور خط ان کے سیدھے ہاتھوں میں تھے، بنی سُلَیْم میں سے سَیَابَہ بن عاصم نامی ایک شخص آگے بڑھا، حجاج نے کہا : تو کہاں سے آیا ہے؟ اس نے کہا : شام سے۔ حجاج نے کہا: امیرالمؤمنین اور ان کے ساتھی کیسے ہیں؟اس نے سب کی خبر دی۔ حجاج نے کہا: کیا تمہارے راستے میں بارش تھی؟ اس نے کہا: جی