ترجمہ:اے میرےنفس! تو درد سے چور ہو کر مجھ سے موت کی شکایت کرتا ہے حالانکہ میں تجھے77 سال سے اٹھائے ہوئے ہوں۔اے نفس! اگر تو مجھے جھوٹی امید دلائے تو یہی کہے گاکہ80 سال کو پہنچنے میں ابھی تین سال باقی ہیں۔
(5865)…حضرتِ سیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: اہل سے علم کو نہ روکو ورنہ گناہ گار ہو جاؤ گے اور نااہل کو علم مت دو ورنہ گناہ گار ہو جاؤ گے۔
خواب کی تعبیر:
(5866)…حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عَیَّاشعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا شعبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی ہمشیرہ حضرتِ سیِّدُنا اَعْشٰی ہَمدانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زوجہ تھیں اور ان کی ہمشیرہ حضرتِ سیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی زوجہ تھیں، حضرت اعشٰیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا:اے ابوعَمْرو! میں نے خواب دیکھا کہ میں ایک گھر میں داخل ہوا جس میں جو اور گندم ہیں، میں سیدھے ہاتھ میں گندم اور الٹے ہاتھ میں جو کی مٹھی بھر لیتا ہوں، جب میں باہر نکل کر دیکھتا ہوں تو سیدھے ہاتھ میں جو اور الٹے ہاتھ میں گندم ہوتی ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا شعبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: اگر تم اپنے خواب میں سچے ہو تو ضرور قرآنِ پاک کو شعر سے تبدیل کر دو گے۔چنانچہ حضرت اعشیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بڑھاپے میں شعر وشاعری کرنے لگے اور نامور شاعر ہوئے حالانکہ اس سے پہلے وہ محلے کی مسجد میں امام تھے اور قرآن پاک کی تعلیم دیا کرتے تھے۔
سیِّدُناامام شعبیعَلَیْہِ الرَّحْمَہ اور حجاج:
(68-5867)…حضرتِ سیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:جب میں حَجَّاج کے پاس قید کر کے لایا جا رہا تھا تو باب القصر پر یزید بن ابو مسلم مجھ سے ملے اور کہا: اے شعبی! مجھے آپ کی گرفتاری پر بہت افسوس ہے، آپ کے پاس علم کا ایک خزانہ ہےاس کے باوجود ایسا...! آج سفارش کا دن نہیں، امیر(یعنی حجاج) کی طرف سے آپ پر شرک و نفاق کے حملے ہوں گے انہیں برداشت کیجئے گا امید ہے کہ نجات پاجائیں۔پھر محمد بن حجاج مجھ سے ملےتو وہی بات کہی جو یزید بن ابو مسلم نے کہی تھی، جب میں حجاج کےسامنے گیا تواس نے کہا: اے شعبی! تو نے ہم سے خوب بغاوت کی، میں نے کہا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ امیر کی اصلاح کرے ہمیں مکان راس نہ آیا، ہر جگہ ہی قحط سالی ہو گئی، راستے تنگ ہو گے، بیداری میری آنکھوں کا سرمہ بن گئی، ہمیں خوف نے