(5858)…حضرتِ سیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:جب مجلس وسیع ہوجائےتوپھریا تو وہ اعلان (ظاہر)ہو جاتی ہے یا پھر راز بن جاتی ہے۔
(5859)…حضرتِ سیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نےفرمایا: مجھے پلاؤوہ چیز جو موجود ہو تو انتہائی کمتر ہے اور مفقود ہو تو سب سے زیادہ اسی کی حاجت ہوتی ہے یعنی پانی۔
(5860)…حضرتِ سیِّدُناشعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: اے ابن ذکوان! تم کھوٹے سکے لائے ہو اور کھرے لے کر جاؤ گے۔
(5861)…حضرتِ سیِّدُنامالک بن مِغْوَل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَوَّل فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا امام شعبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اپنے گھر میں مِزاح فرما رہے تھے تو ان سے کہا گیا: اے ابوعَمْرو! آپ مِزاح کرتے ہیں؟آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:ہمارے پاس قُرَّاء کا آنا جانا ہے (اگر مزاح نہ کریں تو) ہم غم سے مر جائیں گے۔
(5862)…حضرتِ سیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: اس زمانے کے بچوں کو عقل دی گئی اوران کی عمروں میں بھی کمی نہیں کی گئی۔
(5863)…حضرتِ سیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: شورو غُل کرنے والے بھی کیا خوب ہوتے ہیں، سیلاب کو روک لیتے ہیں، آگ کو بجھاتے ہیں اوربرے حکمرانوں کے ساتھ ہنگامہ آرائی کرتے ہیں۔
نفس کی جھوٹی امید:
(5864)…حضرتِ سیِّدُنا شعیب بن حَبْحَابعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب فرماتے ہیں:میں نے حضرتِ سیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاور اپنے والد کو ایک ساتھ چلتے ہوئےدیکھا،حضرت امام شعبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا تہبند سرخی مائل سوت کا تھا ، میرے والد نے کہا : اے ابوعَمْرو!میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کا تہبند لٹک رہا ہے۔انہوں نے اپنا ہاتھ میرے والد کی پیٹھ پر مارا اور فرمایا: یہاں پر ایسی کوئی شے نہیں جو اسے اوپر کو روک سکے(یعنی سرین پر گوشت ہی نہیں کہ تہبند رک سکے)۔ میرے والد نے پوچھا :اے ابوعَمْرو! آپ کی عمر کتنی ہے؟ توانہوں فرمایا:
نَفْسِيْ تَشْكِيْ اِلَىَّ الْمَوْتَ مُوْجِعَةً وَقَدْ حَمَلْتُكِ سَبْعًا بَعْدَ سَبْعِيْنَا
اِنْ تُحْدِثِيْ اَمَلًا يَانَفْسُ كَاذِبَةً اِنَّ الثَّلَاثَ يُوَافِيْنَ الثَّمَانِيْنَا