سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اس معاملے کے بارے میں مکتوب بھیجا۔ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جوابًا لکھا : اس کے بال کاٹ دو، ازار ٹخنوں سے اوپر کروا دو اور مسجد میں پابند کر دو۔
500 صحابہ سے ملاقات:
(5853)…حضرتِ سیِّدُناامام شعبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتےہیں:میں نےحضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے500صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے ملاقات کی ہے۔
دنیا و ما فیہا سے بہتر:
(5854)… ایک شخص کی باندی نے اس کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تو حضرتِ سیِّدُنا شعبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اس شخص سےکہا: اس باندی کا تیرے ہاتھ پر اسلام قبول کرنا تیرے لئے ہر اس چیز سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔
(5855)…حضرتِ سیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : میں گزر جانے والے وقت پر آنسو بہاتا ہوں۔
علم کا نور:
(5856)…حضرتِ سیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے کسی شخص نے کہا : فلاں شخص عالِم ہے۔ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: میں نے تو کبھی اس پر علم کا نور نہیں دیکھا۔ پوچھا گیا:علم کا نور کیا ہے؟ فرمایا: علم کا نور اطمینان ہے جب علم سکھائے توسختی نہ کرے اور جب سیکھے تو تکبر نہ کرے۔
علم حاصل کرنے کی شرط:
(5857)…حضرتِ سیِّدُناشعبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:علم اسی سے حاصل کیا جائے جس میں دو خَصْلَتیں جمع ہوں عقل اور عبادت، اگر بندہ عقل مند ہو اور عبادت گزار نہ ہو تو کہا جاتا ہے یہ معاملہ تو عبادت گزار سے ہی حل ہو گا اس سے نہ پوچھو اور اگر عبادت گزار ہو اور عقل مند نہ ہو تو کہا جاتا ہے یہ معاملہ تو عقل مند سے ہی حل ہو گا اس سے نہ پوچھو۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ لوگ ایک دن ایسوں سے مسئلہ پوچھیں گے جن میں ایک خَصْلَت بھی نہ ہو گی نہ عقل نہ عبادت۔