جب تک میں زندہ ہوں ایسا نہیں ہوگا، جب صبح ہوئی تو آپ نے نصر بن حجاج کو پیغام بھیجا کہ مدینہ سے نکل جا۔ وہ بصرہ میں حضرتِ سیِّدُنا ابو موسٰیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے خلیفہ حضرتِ سیِّدُنا مُجاشِع بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس چلا گیا،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بیوی خوبصورت جوان عورت تھی ایک دن نصر بن حجاج آپ کے پاس بیٹھا تھا جبکہ آپ کی بیوی گھر کے ایک کونے میں کھڑی تھی، نصر نے زمین پر لکھا : خدا کی قسم ! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔اس کی بیوی نے کہا : خدا کی قسم ! میں بھی۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی بیوی سے پوچھا: اس نے تجھے کیا کہا؟بیوی نے جواب دیا: اس نے مجھ سے کہا کہ تمہاری اونٹنی کتنی اچھی ہے۔ آپ نے کہا:خدا کی قسم! تمہاری بات اس کی بات کا جواب نہیں بنتی، میں تمہیں قسم دیتا ہوں: بتاؤ اس نے کیا کہا؟ بیوی نے کہا: آپ نے قسم دی ہے تو بتا دیتی ہوں، اس نے مجھ سے کہا ہے: تمہارے گھر کا سامان بہت اچھا ہے۔آپ نے فرمایا:خدا کی قسم! تیری بات اس کی بات کا جواب نہیں بنتی،اتنے میں آپ کی نظر تحریر پر پڑی تو فرمایا: مکتب سے کسی لڑکے کو میرے پاس لاؤ، لڑکا آیا تو آپ نے اس کو کہا یہ پڑھو؟ لڑکے نے پڑھا : خدا کی قسم ! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : خدا کی قسم ! تمہاری بات اس بات کا جواب بنتی ہے، لہٰذا اپنی عِدَّت شمار کرو (یعنی طلاق دے دی) اور نصر سے کہا : بھتیجے! اگر تو چاہے تو اس سے نکاح کر لے۔ وہ لوگ اپنے حاکموں سے کوئی بات نہ چھپاتے تھے۔چنانچہ نصر نےآکرحضرتِ سیِّدُنا ابو موسٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ساری بات بتا دی، آپ نے نصر کو کہا: خدا کی قسم! امیرالمؤمنین نے تمہیں کسی اچھے کام کی وجہ سے نہیں نکالا ہو گا لہٰذا تم ہمارے ہاں سے بھی نکل جاؤ۔ نصربن حجاج فارس آگیا، وہاں پر حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن ابو عاص ثَقَفیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ خلیفہ مقررتھے۔نصر نے اپنا پڑاؤ ایک سردار کے پاس کیا تو اسے سردار کی بیٹی پسند آگئی اور اس لڑکی نے بھی نصر کی طرف پیغام بھیج دیا، اس معاملے کی خبر حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ہوئی تو انہوں نے نصر سے کہا:تجھے امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر اور حضرتِ سیِّدُنا ابو موسٰیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے کسی اچھائی کی وجہ سے نہیں نکالالہٰذا تم ہمارے ہاں سے بھی نکل جاؤ۔
نصر نے کہا: خدا کی قسم ! اگرآپ لوگ ایسے کرو گے تو میں مشرک ہو جاؤں گا۔چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن ابو عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرتِ سیِّدُنا ابو موسٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اور انہوں نے امیرالمؤمنین حضرتِ