حَقِّ پڑوس ادا کر دیا:
(5851)…حضرتِ سیِّدُنا شعبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: ایک انصاری مسلمان جہاد پر گیا اور جانے سے پہلے اپنے پڑوسی کو اپنے گھر والوں کا خیال رکھنے کا کہا، اب ایک یہودی اس انصاری کے گھر آنے لگا، جب پڑوسی کو اس بات کی خبر دی گئی تو وہ رات تاک میں بیٹھ گیا اتنےمیں یہودی آیا اور اس انصاری مجاہد کے بستر پر ایک ٹانگ پرٹانگ رکھے چت لیٹ گیا اور یہ اشعار گنگنانے لگا:
وَاَشْعَثَ غَرَّهُ الْاِسْلَامُ مِنِّيْ خَلَوْتُ بِعُرْسِهٖ لَيْلَ التَّمَامِ
اَبِيْتُ عَلٰى تَرَائِبِهَا وَيَضْحٰى عَلٰى قُبَّاءٍ لَاحِقَةِ الْحِزَامِ
كَاَنَّ مَجَامِعَ الرَّبَلَاتِ مِنْهَا ثُمَامٌ قَدْ جُمِعْنَ اِلٰی ثُمَامِ
ترجمہ: اشعث کو اسلام نے مجھ سے دھوکے میں رکھا میں پوری رات اس کی بیوی کے ساتھ تنہا رہا اور اس کے سینے پر رات گزاری جبکہ اشعث راستےمیں رسیوں سے بندھے خیموں میں دوپہر کر رہا ہے، اس کی بیوی کی نرم وگداز رانیں گھنی شاخوں کی طرح ہیں جو ایک دوسرے پر جھکی ہوئے ہیں۔
تاک میں بیٹھے اس پڑوسی نے تلوار کا وار کر کے اس یہودی کو قتل کر دیا،صبح جب یہ معاملہ امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: جو بھی شخص اس بارے میں کچھ جانتا ہے کھڑا ہو جائے؟ چنانچہ وہی پڑوسی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: معاملہ ایسے ایسے ہے حتّٰی کہ پوری بات بیان کردی۔ امیر المؤمنین نے فرمایا:اگر یہودی دوبارہ ایسا کریں تو تم ان کے ساتھ یہی سلوک کرو(یعنی قتل کر دو)۔
برائی کا سَدِّباب:
(5852)…حضرتِ سیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: امیرالمؤمنین سیِّدُنا عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ رات کومدینہ میں پہرہ کی غرض سے گشت کرتے ہوئے ایک عورت کے گھر کے پاس سے گزرے تو وہ کہہ رہی تھی:
هَلْ مِنْ سَبِيلٍ اِلٰی خَمْرٍ فَاَشْرَبَهَا اَمْ هَلْ سَبِيلٌ اِلٰی نَصْرِ بْنِ حَجَّاجِ
ترجمہ: کیا شراب پینے کا کوئی راستہ ہے کہ میں پیوں، یا نَصْر بن حجاج کی طرف کوئی راستہ ہے۔
نصر بن حجاج خوبصورت مرد تھا،امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: خدا کی قسم!