قوّتِ حافظہ:
(5847)…حضرتِ سیِّدُنا ابنِ شُبْرُمَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت امام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو فرماتے ہوئے سنا: میں نے کبھی حدیث نہیں لکھی اور جس شخص سے بھی حدیث سنی اس کو کبھی دوبارہ سنانے کا نہیں کہا۔مزید فرماتے ہیں :میں حضرتِ سیِّدُنا شعبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے ساتھ ان کے گھر کی طرف جا رہا تھا کہ انہوں نے فرمایا:تم مجھے اٹھاؤ میں تمہیں اٹھاتا ہوں یعنی تم مجھے حدیث سناؤ میں تمہیں حدیث سناتا ہوں۔
(5848)…حضرتِ سیِّدُنا عمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں اور میرے والد حضرتِ سیِّدُنا عامر شعبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے گھر گئے تو میرے والد نے ان کو پکارا : اے ابو عَمْرو!آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: لَبَّيْكَ یعنی حاضر ہوں۔میرے والد نے کہا: آپ کی ان دو شخصوں کے بارے میں کیا رائے ہے جن کے متعلق لوگ باتیں کرتے ہیں؟آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: کون سے دو شخص؟ والد صاحب نے کہا: حضرتِ سیِّدُنا عثمان اور حضرتِ سیِّدُنا علیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:خدا کی قسم!میں اس بات سے بَری ہوں کہ مجھے قیامت کے دن حضرتِ سیِّدُنا عثمان اور حضرتِ سیِّدُنا علیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے جھگڑے میں بلایا جائےاللہ عَزَّ وَجَلَّ ہماری اور ان دونوں کی مغفرت فرمائے۔
(5849)…حضرتِ سیِّدُنا شعبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: جو اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کرتا ہے وہ اپنے ربّ سے روایت کرتا ہے۔
آیتِ حج کی تفسیر:
(5850)…حضرتِ سیِّدُنا عمر بن بِشْر ہَمدانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا عامر شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے اس آیت کے متعلق پوچھا گیا: وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیۡتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًاؕ (پ۴، اٰلِ عمرٰن:۹۷)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اللہکے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے۔
تو آپ نے فرمایا: جس کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے راستے کو آسان کر دیااور تمام جہانوں میں سے جو بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّکا منکر ہوا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے بے پروا ہے۔