Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
397 - 475
فرمایا: کیا میں تمہیں تین بہترین باتیں نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کی: کیوں نہیں۔آپ نے فرمایا: پہلی بات یہ کہ جب تم کسی مسئلے کے بارے میں سوال کرو اور تمہیں اس کا جواب دے دیا جائے تو پھر اپنی خواہش کی پیروی نہ کرو، کیا تم نے نہیں  دیکھا  کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنی کتاب میں کیا ارشاد  فرمایا ہے:
اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ ؕ اَفَاَنۡتَ تَکُوۡنُ عَلَیۡہِ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۴۳﴾ (پ۱۹،الفرقان:۴۳)	
ترجمۂ کنز الایمان:کیا تم نے اُسے دیکھا جس نے اپنے جی کی خواہش کو اپنا خدا بنا لیا تو کیا تم اس کی نگہبانی کا ذمّہ لو گے۔
	 اب دوسری بات سنو!جب تم سے مسئلہ پوچھا  جائے تو اسے کسی پر قیاس مت کرنا کہ کسی حرام کو حلال اور حلال کو حرام ٹھہرا دو گے جبکہ تیسری بہترین بات یہ ہے کہ جب تم سے ایسا مسئلہ پوچھا جائے جس کے بار ےمیں تم نہیں جانتے تو کہہ دو میں اس بارے میں نہیں جانتا میں بھی تمہاری طرح ہوں۔
(5836)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں: جب حضرتِ سیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے پیچیدہ باتیں پوچھی جاتیں تو فرماتے: یہ ایسی اون والے چوپائے ہیں جنہیں نہ کھینچا جا سکے نہ ہانکا جا سکے اگر ان کے متعلق صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے پوچھا جاتا تو یقیناً ان پر بھی گراں گزرتا۔  
 اہل رائے کی مذمت:
(5837)…حضرتِ سیِّدُنا شعبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: اگر کوئی صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے حوالے سے کوئی بات بتائے تو اسے لے لو اور اگر اپنی رائے سے بتائے تو اس پر پیشاب کر دو۔
(5838)…حضرتِ سیِّدُنا صالح بن مسلمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے  حضرتِ سیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے ایک مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا:حضرتِ سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس بارے میں ایسا  فرمایا ہے اور حضرتِ سیِّدُنا علی بن ابو طالب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایسا فرمایا ہے۔  میں نے عرض کی: آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟  امام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: ان دونوں بزرگوں کے بعد میری رائے کا کیا کرو گے؟ جب میں تمہیں اپنی رائے سے کچھ بتاؤں تو اس پر پیشاب کر دو۔
(5839)…حضرتِ سیِّدُنا صالح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا شعبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے مجھ سے فرمایا:اگر تم نے آثارِ صحابہ چھوڑ کر قیاس کو اختیار کیا تو  تم ہلاک ہو جاؤ گے،اللہجانتا ہے اصحاب رائے  کی وجہ