پہلے ایک چوہا نکلا تو بلی نے جھپٹا مار کر اسے دبوچ لیا۔ زیاد نے کہا: جسے کوئی حاجت ہو تو وہ اس بلی کی طرح مستقل مزاجی سے اس میں لگا رہے اسے کامیابی مل جائے گی۔
فیصلہ کرنے والا پُرسکون ہو:
حضرتِ سیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتےہیں: عجلان نے مجھے بتایا کہ زیاد نے مجھ سے کہا: تیرا براہو ! میرے پاس کسی عقل مند شخص کو لےکر آ۔ میں نے عرض کی:میں آپ کی بات سمجھا نہیں۔ زیاد نے کہا: عقل مند اپنے چہرے اور قد کاٹھ سے پہچانا جاتا ہے۔ لہٰذا میں تلاش میں نکلا تو ایک شخص کو دیکھا جس کا خوبصورت چہرا ہے اچھا قد ہے اور فصیحُ اللِّسان ہے ، میں اسے لے کر زیاد کے پاس آیا تو زیاد نے کہا: اے شخص! میں تجھ سے کسی معاملے میں مشورہ کرنا چاہتا ہوں تو کیا کہتا ہے؟ اس شخص نے کہا: میں حاقِن ہوں (حاقن وہ شخص جس کا پیشاب رک گیا ہو) اور حاقن کی کوئی رائے نہیں ہوتی۔زیاد نے کہا : اے عَجْلان! اسے وضو کراؤ (یعنی رفْعِ حاجت کے لئے لے جاؤ)۔چنانچہ وہ رفْعِ حاجت کے بعد آیا تو زیاد نےپوچھا : اب تو کیا کہتا ہے؟اس نے کہا: میں بھوکا ہوں اور بھوکے کی کوئی رائے نہیں ہوتی ۔زیاد نے کہا: اے عجلان! کھانا لے آؤ۔ میں کھانا لے آیا۔ اس شخص نے کھانا کھایا اور کہا: اب پوچھیں آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟زیاد نے اس سے جو باتیں بھی پوچھیں اس نے بہتر مشورہ دیا۔ لہٰذا زیاد نے اپنے ماتحتوں کو خط لکھا: جب تم بھوکے یا حاقن ہو اس وقت لوگوں کے معاملات میں غوروفکر مت کرنا۔
گناہ سے توبہ کرنے والا:
(5827)…حضرتِ سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:کہا جاتا تھا کہ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو، بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے اور جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی کو پسند فرماتا ہے تو اس کو گناہ نقصان نہیں پہنچاتے اور وہ گناہ جو نقصان نہ پہنچائے ایسے ہےگویا وہ ہوا ہی نہیں۔
(5828)…حضرتِ سیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا:اگر زمین میں کمی ہوتی تو ضرور تمہارا باغ تم پر تنگ ہو جاتا دراصل صبرو ہمت اور پھل کم ہو گئے ہیں۔