پر آ کر پرندے نے کہا: او نامراد! اگر تو مجھے ذبح کر لیتا تو میرے پیٹ سے دو موتی نکلتے اور ہر ایک موتی 20 مثقال کا ہے۔ شکاری اپنے ہونٹ کاٹنے لگا اور افسوس کرنے لگا اور کہا: تیسری بات بتا؟ پرندے نے کہا: تو میری پہلی دو باتیں تو بھول گیا تو تیسری کیسے بتاؤں؟ کیا میں نے تجھے نہیں کہا تھا کہ جو ہاتھ سے نکل جائے اس پر افسوس نہ کرنا؟ جو ممکن نہ ہو اس کی تصدیق نہ کرنا؟ میں، میرے پر، میرا گوشت اور میرا خون سب ملا کر بھی 20 مثقال کا نہیں، اتنا کہہ کر پرندہ پرواز کر گیا۔
حکایت:چالاک لومڑی اور بھیڑیے کی ٹانگ
(5825)…حضرتِ سیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:ایک مرتبہ شیر بیمار ہوا تو لومڑی کے علاوہ سب جانور اس کی عیادت کرنے گئے۔بھیڑیے نے کہا: بادشاہ سلامت ! آپ کی عیادت کرنے سب جانور آئے لیکن لومڑی نہیں آئی۔شیر نے کہا: جب وہ آئے تو بتانا۔یہ بات لومڑی تک پہنچی تووہ شیر کے پاس آگئی۔ شیر نے کہا: اے ابو الحُصَیْن!(یہ لومڑی کی کنیت ہے) سب جانوروں نے میری عیادت کی لیکن تو کیوں نہیں آئی؟ لومڑی نے کہا: مجھے جب بادشاہ کی بیماری کا پتا چلا تو میں دوائی کی تلاش میں نکل پڑی۔ شیر نے کہا: کوئی دوا ملی؟ لومڑی نے کہا: کہتے ہیں کہ بھیڑیے کی پنڈلی کا گوشت بیماری ختم کر سکتا ہے۔یہ کہنا تھا کہ شیر نے بھیڑیے کی پنڈلی پر پنجہ گاڑ دیا ادھر لومڑی چپکے سے نکل کر راستے میں جابیٹھی۔جب بھیڑیا اپنی خون آلود ٹانگ لئے وہاں سے گزراتو لومڑی نے آواز لگائی: ارے اوسرخ موزوں والے! اب جب بھی بادشاہ کے پاس بیٹھنا تو سوچ لینا کہ تمہارے سر سے کیا نکلنے والا ہے، ابھی تو صرف ٹانگ زخمی ہوئی ہے۔
بلی کی استقامت:
(5826)…حضرتِ سیِّدُناشعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: زیاد کے غلام اور دربان عجلان نے مجھے بتایا کہ زیاد جب گھر سے نکلتا تو میں اس کے آگے آگے مسجد تک جاتا اور مسجد میں داخل ہونے کے بعد بھی اس کی نشست گاہ تک آگے آگے ہی چلتا، ایک دن وہ نشست گاہ میں داخل ہوا تو ایک بلی کو دیکھا جو گھر کے ایک کونے میں بیٹھی تھی، میں اسے بھگانے کے لئے گیا تو زیاد نے کہا: اسے چھوڑ دو دیکھیں کیا کرتی ہے۔پھر اس نے ظہر پڑھی اور لوٹ آیا پھر ہم عصر پڑھ کر نشست گاہ لوٹے تو بلی کو وہیں موجود پایا، غروبِ شمس سے تھوڑا