تمہاری چھ خصلتیں ہیں جو عرب میں کسی کی نہیں:(۱)…تمہاری قوم کی ایک عورت کی طرف حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نکاح کا پیغام بھیجا اور ان کا نکاح اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کروایا اور ان دونوں کے درمیان سفیرحضرتِ سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام تھے وہ عورت اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا زینب بنت جَحْشرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہیں اور یہ تمہاری قوم کاخاصّہ ہے۔(۲)…تمہاری قوم کا ایک شخص اہل جنت میں سے ہے اور وہ زمین پر قناعت پسند لوگوں کی طرح چلتا ہے وہ حضرتِ سیِّدُنا عُکاشہ بن مِحْصَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں اور یہ تمہاری قوم کا خاصہ ہے۔(۳)…اسلام کا سب سے پہلا معاہدہ جس شخص نے کیا وہ تمہاری قوم میں سے حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن جَحْشرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہہیں اور یہ تمہاری قوم کاخاصہ ہے۔(۴)…اسلام میں سب سے پہلے جو غنیمت تقسیم کی گئی وہ حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تھی۔(۵)… بیعتِ رضوان میں سب سے پہلے جس شخص نے بیعت کی وہ تمہاری قوم کا تھا جو بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہاتھ بڑھائیے تا کہ میں آپ سےبیعت کروں۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: کس بات پر بیعت کرو گے؟ عرض کی: جو آپ کے دل میں ہے۔آپ نے ارشاد فرمایا: میرے دل میں کیا ہے؟ عرض کی: فتح یا شہادت۔ لہٰذا حضرتِ سیِّدُنا ابو سِنَان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بیعت کی، پھر لوگ آتے اور کہتے: ہم ابو سنان والی بیعت کرتے ہیں۔ یہ بھی تمہاری قوم کا خاصہ ہےاور (۶)…جنگ بدر میں تمہاری قوم کے سات مہاجرین تھے یہ بھی تمہاری قوم کا خاصّہ ہے۔
حکایت: پرندے کی نصیحت
(5824)…حضرتِ سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:ایک شخص نے پرندے کا شکار کیا جب اس کو ہاتھ میں پکڑا تو پرندے نے کہا:تو میرے ساتھ کیا کرے گا؟ شکاری نے کہا: تجھے ذبح کروں گا اور کھاؤں گا۔ پرندے نے کہا : نہ میں تیری بیماری دور کر سکتا ہوں اور نہ تیری بھوک مٹا سکتا ہوں لیکن میں تجھے ایسی تین باتیں بتا سکتا ہوں جو تیرے لئے مجھے کھانے سے زیادہ بہتر ہیں، ایک بات تو تیرے ہاتھ میں ہی بتاؤں گا۔ دوسری پہاڑ پر اور تیسری درخت پر۔شکاری نے کہا: پہلی بات بتا؟ پرندے نے کہا: جو تیرے ہاتھ سے نکل جائے اس پر افسوس نہ کرنا۔ پہاڑ پر آ کر پرندے نے کہا: جو ناممکن ہو اس کی تصدیق نہ کرنا۔ درخت