Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
392 - 475
اتحاد کی برکت:
(5820)…حضرتِ سیِّدُنا عامر شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی  سے عراق اور شام کی جنگ کے بارے میں سوال کیا گیا تو  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:شام والے ہم پر غالب ہوتے رہیں گے اس لئے کہ وہ لوگ حق سے جاہل ہیں لیکن متحد ہیں اور تم لوگ فرقوں میں بٹے ہوئے ہو،اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کبھی بھی فرقوں کو جماعت پر تسلط نہیں دیتا۔
خود ساختہ احتیاط باعث ہلاکت ہے:
(5821)…حضرتِ سیِّدُنا عبید لَحَّامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:میں حضرتِ سیِّدُنا شعبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے ساتھ چل رہا تھاکہ ایک شخص نے کہا: اے ابوعَمْرو!آپ ان لوگوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو رمضان سے ایک دن پہلے اور  ایک دن بعد روزہ رکھتے ہیں؟آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:کس وجہ سے؟ اس نے عرض کی: اس لئے کہ ان کا  رمضان کاکوئی روزہ  نہ رہ جائے۔آپ نے فرمایا:بنی اسرائیل کی ہلاکت کا یہی سبب  تھا، وہ لوگ مہینے سے ایک دن پہلے اور بعد میں روزہ رکھتے  تھے یوں ان کے 32 روزے ہو جاتے تھے  اس قوم کے جانے کے بعد دوسری قوم آئی اور انہوں نے مہینے سے پہلے دو اور بعد  دو روزے  رکھنا شروع کر دیئے یوں ان کے روزے 34 ہو جاتے تھے حتّٰی کہ ان لوگوں کے روزے 50 تک پہنچ گئے۔ تم لوگ چاند دیکھ کر روزے شروع کرو اور چاند دیکھ کر ختم کر دو۔
(5822)…حضرتِ سیِّدُناداؤداَوْدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتےہیں:میں نےحضرتِ سیِّدُناعامرشعبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو بیت الخلا میں چھینکے تو کیا وہ حمد کہے؟ آپ نے فرمایا:ہرحال میںاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حمد کرے(یعنی فقط دل میں کہہ لے)۔
بنو اَسَد کے فضائل:
(5823)…حضرتِ سیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: میرے پاس دو شخص آئے  ان میں سے ہر ایک دوسرے پر فخر کر رہا تھا،ایک بنو عامر کا تھا اور ایک بنو اسد کا، عامری نے اَسَدی کا ہاتھ پکڑ لیا تو اسدی نے کہا : مجھے چھوڑ دے، عامری نے کہا : خدا کی قسم! میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔حضرتِ سیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: میں نے عامری سے کہا: اے  بنو عامر کے بھائی! اسے چھوڑ دےاور اسدی سے کہا :