اس میں سب سے زیادہ اجر وثواب اس مال میں ہے جو اس نے اپنی اولادپرشفقت کرتے ہوئے چھوڑا تاکہ اولاد لوگوں کی محتاج نہ رہے۔
سیِّدُناعیسٰیعَلَیْہِ السَّلَامکا خوفِ آخرت:
(5810)…حضرتِ سیِّدُنا امام شعبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:جب حضرتِ سیِّدُنا عیسٰی بن مریم عَلَیْہِ السَّلَام کے سامنے قیامت کا ذکر کیا جاتا تو آپ رو نے لگتے اور فرماتے: یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ابن مریم کے سامنے قیامت کا ذکر ہو اور وہ خاموش رہے۔
(5811)…حضرتِ سیِّدُنا اما م شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: جو بھی امت اپنے نبی کے بعد اختلاف میں پڑ گئی اس کےاہل باطل اہل حق پر غالب ہو گئے۔
(5812)…حضرتِ سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:اگر کوئی شخص ملک شام کے کنارے سے مُلْکِ یمن کے کنارے تک سفر کرے اور پورے سفر میں کوئی ایک ایسی بات سیکھ لے جو اسے مستقبل میں فائدہ دے تو میں سمجھتا ہوں اس کا سفر ضائع نہیں گیا۔
اچھی بات لے لو:
(5813)…حضرتِ سیِّدُنا مُجَالِدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:میں نے حضرتِ سیِّدُنا شعبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو فرماتے ہوئے سنا: علم بارش کے قطروں سے بھی زیادہ ہے لہٰذا جس کی جو بات اچھی لگے اپنا لو پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:
فَبَشِّرْ عِبَادِ ﴿ۙ۱۷﴾ الَّذِیۡنَ یَسْتَمِعُوۡنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوۡنَ اَحْسَنَہٗ ؕ (پ۲۳،الزمر:۱۷-۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان: تو خوشی سناؤ میرے ان بندوں کو جو کان لگا کر بات سنیں پھر اس کے بہتر پر چلیں۔
حضرتِ سیِّدُنا احمد بن شَیْبانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: یہ انتخاب کرنے میں رخصت ہے۔
(5814)…حضرتِ سیِّدُنا عَمْرو بن عبداللہ نخعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں: میرے والد نے مجھےامام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی طرف بھیجا کہ میں ان سے اس صحیفے کے بارے میں سوال کروں جس میں میری تحریر اور میری انگوٹھی کا نقش ہے اور جو کچھ اس میں لکھا ہےاس پر گواہی دوں۔ تو حضرتِ سیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: