والے گروہ کودیکھ کر کہے گا: تمہیں کیا چیز جہنم میں لے آئی؟ حالانکہ جو تم ہمیں سکھاتے تھے ہم اسی پر عمل کرتے تھے۔ وہ لوگ کہیں گے: ہم تمہیں تو سکھاتے تھے لیکن خود عمل نہیں کرتے تھے۔
سہارے زندگی کے:
(03-02-01-5800)…حضرتِ سیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: لوگوں نے دین کے سہارے طویل زندگی گزاری حتّٰی کہ دین چلا گیاپھر لوگوں نے مُرَوَّت کے سہارےطویل زندگی گزاری حتّٰی کہ مُرَوَّت چلی گئی پھر لوگوں نے حیا کے سہارےطویل زندگی گزاری حتّٰی کہ حیا بھی چلی گئی پھر لوگوں نے شوق اور خوف کے سہارے طویل زندگی گزاری اور میرا خیال ہے عنقریب اس کے بعدجو چیز آئے گی وہ اس سے بھی سخت ہو گی۔
(5804)…حضرتِ سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: جب کسی کی اچھائیاں اس کی برائیوں پر غالب ہو جائیں تو عرب لوگ اس کو کامل شخص کہتے تھے اور جب دونوں برابر ہوں تو اس کو صبر و ضبط والا کہتے تھے اور جب برائیاں اچھائیوں سے زیادہ ہو جاتیں تو اس کو بے حیا کہتے تھے۔
ہررونے والا مظلوم نہیں:
(5805)…حضرتِ سیِّدُنا امام شعبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: میں حضرتِ سیِّدُنا قاضی شُرَیحرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس تھا اتنے میں آنسو بہاتی ایک عورت کسی مرد کے خلاف اپنا مقدّمہ لے کر آئی ۔ میں نے کہا : اے ابو امیہ! میرے خیال میں تو عورت مظلوم ہے؟سیِّدُنا قاضی شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اے شعبی! حضرتِ سیِّدُنا یوسف عَلَیْہِ السَّلَامکے بھائی بھی رات گئے اپنے باپ کے پاس روتےہوئے آ ئے تھے۔
(5806)…حضرتِ سیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: میں دنیا سے اس طرح جانا پسند کرتا ہوں کہ میرا معاملہ برابر ہو نہ مجھ پر کچھ ہو اور نہ میرے لئے کچھ ہو۔
(5807)…حضرتِ سیِّدُنا شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: کاش! میں نے علم بالکل بھی نہ سیکھا ہوتا۔
عظیم اجروثواب والا ترکہ:
(5808)…حضرتِ سیِّدُنا امام شعبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: بندے نے اپنے پیچھے جو بھی مال چھوڑا