Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
386 - 475
سیّدُنا عامر بن شَراحیل شَعْبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی
	تابعین عِظام میں ایک ہستی حضرتِ سیِّدُناعامر بن شراحیل شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکی بھی ہے آپ ماہر فقیہ، رضائے الٰہی کے راستے پر چلتے ہوئے واضح اور باقی رہنے والے علم کو حاصل کرنے والے، صاف ستھرے وپاکیزہ حال والے،نیکیاں کرنےاوربرائیوں سے بچنے والے، فضولیات سے دور رہنے والےاور ضروری امور پر کمر بستہ رہنے والے تھے۔
امام شعبی علما کی نظر میں:
(5782)…حضرتِ سیِّدُنا عاصمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے  حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو  حضرتِ سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے وصال کے بارے میں بتایا تو انہوں نےکہا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ان پر رحم فرمائےیقیناً اسلام میں ان کا بلند مقام ہے۔
(5784)…حضرتِ سیِّدُنا سَوَّار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں: جب حضرت امام شعبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا وصال ہوا تو میں بصرہ میں  حضرت حسن بصریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آیا  اور کہا : اے ابو سعید! امام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا وصال ہو گیاہے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے” اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ “ پڑھااور فرمایا: بے شک وہ عمر میں بڑے تھے تو علم میں بھی بڑے تھے  اور اسلام میں ان کا بلند مقام ہے۔پھر میں حضرت محمد بن سیرینعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن کے پاس آیا  اور کہا: اے ابو بکر!حضرت امام شعبیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا وصال ہو گیا ہے۔ تو انہوں نے بھی  وہی کہا جیسا حضرت حسن  بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے کہا تھا۔
امام شعبی کی درس گاہ:
(5785)…حضرتِ سیِّدُنا ابن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن  فرماتے ہیں: میں کوفہ آیا تو میں نے حضرت امام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے حلقہ احباب (درس گاہ) کوبہت وسیع پایا حالانکہ اس وقت کئی صحابہ بھی موجود تھے۔
امام شعبی اور علم حدیث:
(5786)…حضرتِ سیِّدُنا عاصم بن سلیمانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:میں نے  کوفہ ، بصرہ ، حجاز اور آفاق