(5778)…حضرتِ سیِّدُنا عدی بن حاتمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: میں نےبارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں نے ایک شکار کو تیر مارا پھر اسے تلاش کیا تو ایک رات بعد ملا اب اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جب تم اس میں اپنا تیر دیکھ لو اور اس میں سے کسی درندے نے نہ کھایا ہو تو اسے کھا لو(1)۔(2)
اعضائے جسم کی زبان سے التجا:
(5779)…حضرتِ سیِّدُنا ابو سعید خدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں حضور نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جب آدمی صبح کرتا ہے تو بدن کے تمام اعضاء زبان کے آگے جھک جاتے ہیں اور کہتے ہیں: ہم اپنے بارے میں تجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم دیتے ہیں کیونکہ اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔(3)
(5780)…اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُناعائشہ صدّیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں:میں نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کپڑوں سے منی کھرچ دیا کرتی پھرآپ ان ہی کپڑوں میں نماز ادا فرماتے۔(4)
(5781)…اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُناعائشہ صدّیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں: حَسّان بن ثابِت کو برا نہ کہو کیونکہ انہوں نے اپنی زبان اور اپنے ہاتھ سے رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مدد کی ہے ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے عرض کی گئی: کیا یہ ان میں نہیں ہیں جن کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فلاں فلاں عذاب تیار کر رکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: ان کی بینائی کا چلا جانا ہی بطور عذاب ان کو کافی ہے۔(5)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… درندے کا ذکر بطور مثال ہے ورنہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی اور وجہ سے اس کے مرنے کا احتمال ہو تو ہرگز نہ کھایا جائے مثلًا پانی میں ڈوبا ہے کیونکہ نہیں معلوم وہ مرکر پانی میں گرا ہے یا گر کر مرا ہے ایسے مشکوک شکار کو ہرگز نہ کھایا جائے۔
(مراٰۃ المناجیح، ۵/۶۴۹)
2… نسائی، کتاب الصید و الذبائح، باب فی الذی یرمی الصید...الخ، ص۷۰۱،حدیث: ۴۳۰۸
3…ترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء فی حفظ اللسان،۴/ ۱۸۳، حدیث:۲۴۱۵،بتغیر قلیل
4…مسلم، کتاب الطھارة، باب حکم المنی، ص۱۶۶،حدیث: ۲۸۸
5…تاریخ ابن عساکر،۱۲/ ۳۹۹، الرقم:۱۲۶۳،حسان بن ثابت...الخ،بتغیر قلیل