Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
382 - 475
اِس اُمت پر خصوصی انعام:
(5768)…حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام بارگاہِ رسالت میں موجود تھے کہ اچانک اوپر سے ایک آواز سنائی دی،سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے سر اوپر کی جانب اٹھایااور عرض کی: یہ آسمان کا دروازہ ہے جو آج کھولا گیا ہےآج سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا، اتنے میں دروازے سے ایک فرشتہ اترا توحضرت سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی: یہ فرشتہ آج سے پہلے کبھی نازل نہیں ہوا۔ اُس فرشتے نے سلام کیا اور عرض کی: آپ کو ان دو سورتوں کی مبارک ہو جو آپ سے پہلے کسی نبی پر نازل نہیں ہوئیں، ایک سورہ فاتحہ اور دوسری سورہ بقرہ  کی آخری آیات، آپ اس میں سے جو بھی حرف پڑھیں گے آپ کو اس کابہترین بدلہ دیا جائے گا۔(1)
حجر اسود کو گواہ بناؤ:
(5769)…حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاروایت کرتے ہیں کہ حضور سیِّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: بروزِ قیامت  حجرِ اَسْوَد  اس طرح آئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گا اور زبان ہو گی جس سے بولے گا اور ہر اس شخص کی گواہی دے گا جس نے اسے حق کے ساتھ استلام  کیا ہو گا۔(2)
شانِ اہلِ بیت:
(5770)…حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں: جناب احمد مجتبیٰ، محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: میرے اہْلِ بیت، نوح عَلَیْہِ السَّلَام کی کشتی کی مثل ہیں کہ جو اس میں سوار ہوا اس نے نجات پائی اور جس نے اس سے منہ موڑا وہ غرق ہوا۔(3)
قیامت کی نشانیاں:
(5771)…حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ نبی غیب دانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسلم، کتاب صلاة المسافرین...الخ، باب فضل الفاتحة...الخ، ص۴۰۳، حدیث:۸۰۶
2…مسند احمد،مسند عبد اللّٰہ بن عباس، ۱/ ۶۲۳، حدیث:۲۶۴۳
3…مسند البزار، مسند عبد اللّٰہ بن عباس، ۱۱/ ۳۲۹،حدیث: ۵۱۴۲