جن، دیمک کو پانی دیتے ہیں:
(5765)…حضرتِ سیِّدُنا ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں: تاجدار انبیا، حبیب کبریا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّکےنبی سلیمان بن داؤدعَلَیْہِمَا السَّلَامجب اپنے مصلّے پر کھڑے ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے سامنے ایک درخت اگ رہا ہے، سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام نےپوچھا: تیرا نام کیا ہے؟ درخت نے جواب دیا : خَرْنُوب۔ سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: یہاں کس لئے اگا ہے؟درخت بولا: اس گھر کو خراب کرنے کے لئے۔ سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام نے دعا مانگی: یَااللہ عَزَّ وَجَلَّ! میری موت کو جنوں پر پوشیدہ رکھنا تاکہ انسان جان لیں کہ جن غیب کا علم نہیں رکھتے۔ سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام نے اس درخت سے ایک لکڑی توڑکر اس پر ٹیک لگا لی تو دیمک نے اس لکڑی کو کھانا شروع کر دیا جب لکڑی ٹوٹی تو سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام زمین پر تشریف لے آئے لوگوں نے دیمک کے اس لکڑی کو کھانے کا اندازہ لگایا تو ایک سال بنا لہٰذا لوگوں پر خوب واضح ہو گیا کہ اگر جن غیب کا علم رکھتے تو پورا سال اس مشقت بھرے کام میں نہ لگے رہتے، جنوں نے دیمک کا شکریہ ادا کیا اور اب جہاں بھی دیمک ہو جن اسے پانی دیتے ہیں۔(1)
یہود بارگاہِ رسالت میں:
(5766)…حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:یہود بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے ابو القاسم!ہم آپ سے کچھ چیزوں کے بارے میں سوال کریں گے اگر آپ نے جواب دے دیا تو ہم آپ کی پیروی کریں گے،آپ کی تصدیق کریں گے اور آپ پر ایمان لے آئیں گے۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے عہد لیا جس طرح یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنےآپ سے لیا تھا۔ یہود بولے : جو بھی ہم کہیں اس پراللہ کا ذمہ ہے،ہمیں نبی کی علامت بتا دیں؟ارشاد فرمایا: نبی کی آنکھیں سوتی ہیں دل نہیں سوتا۔یہود نے کہا: لڑکی اور لڑکا ماں کے پیٹ میں کیسے بنتے ہیں؟ ارشاد فرمایا: دونوں پانی ملتے ہیں اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جائے تو لڑکی اور اگر مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آ جائے تو لڑکا ہوتا ہے۔یہودی بولے:آپ نےسچ کہا۔ہمیں”رَعْد“کےبارےمیں بتائیں؟ارشادفرمایا:اللہعَزَّ وَجَلَّکے فرشتوں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مستدرک حاکم، کتاب الطب، باب ان الجن لایعلمون الغیب ،۵/ ۲۷۸ ،حدیث:۷۵۰۵،بتغیرقلیل