Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
377 - 475
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّارشاد فرماتا ہے: اے ابن آدم!جب تک تو مجھ سے دعا مانگے اور آس لگائے تو میں تجھے تیرے عیوب کے باوجود بخشتا رہوں گا  اور اگر تو زمین بھر خطاؤں کے ساتھ مجھ سے ملے تو میں اتنی ہی مغفرت کے ساتھ تجھ سے ملوں گا بشرطیکہ تو نے کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرایا ہو اور اگر تیری خطائیں آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہوں پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں تجھے بخش دوں گا۔(1)
واہ! یہ شان کریمی:
 (5754)…حضرتِ سیِّدُنا ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:نبی رحمت، شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:مومن کی اولاد درجے میں اس کے ساتھ ہو گی تا کہ اس کے سبب والدین کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اگرچہ اولاد کا عمل والدین کے برابر نہ ہو،  پھر یہ آیت  مبارکہ تلاوت فرمائی: وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ اتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمۡ بِاِیۡمَانٍ اَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنَاہُمۡ مِّنْ عَمَلِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ ؕ (پ۲۷،الطور:۲۱)
ترجمۂ کنز الایمان: اور جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی ہم نے ان کی اولاد ان سے ملا دی اوران کے عمل میں انہیں کچھ کمی نہ دی۔
	پھرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاس کی تفسیرکرتےہوئےارشادفرمایا: جو ہم نے اولادوں کو عطا کیا اس کے بدلے والدین کو کمی نہ دیں گے۔(2)
(5755)…حضرتِ سیِّدُنا ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں: ایک شخص بارگاۂ رسالت  میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: کیا  آپ کا ربّ رنگتا ہے؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:ہاں، سرخ، سفید، پیلا، ایسا رنگتا ہے جس میں نقص نہیں ہوتا۔(3)
(5756)…حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان  کرتے ہیں کہ تاجدارِ حرم، شفیْعِ اُمَمْصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا: مجھ پر اُمتیں پیش کی گئیں تو کسی نبی کے ساتھ کئی لوگ تھےاور کسی نبی کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…معجم کبیر، ۱۲/ ۱۶ ، حدیث:۱۲۳۴۶
2…تفسیر در منثور، الجزء السابع و العشرون، پ۲۷،الطور،الاٰية:۲۱،  ۷/ ۶۳۲
3…مسند البزار، مسند عبد اللّٰہ بن عباس، ۱۱/ ۳۰۴ ،حدیث:۵۱۰۷