رہا اس کے پیٹ میں لقمہ پھنس گیا تو اس نے طبیب کومعائنہ کرنے بلوایا، طبیب نے سڑے ہوئے گوشت کا ٹکڑا لیا اور اس کو دھاگے سے باندھ کرحجاج کے حلق میں ڈالا اور کچھ دیر بعد نکالا تو اس پر خون کا اثر تھا، وہ جان گیا کہ اب بچنے کی کوئی امید نہیں اور حجاج اپنی باقی زندگی یہی کہتا رہا ’’آخر میں نے سعید بن جبیر کے ساتھ ایسا کیوں کیامیں جب جب سونے کا ارادہ کرتا ہوں وہ مجھے جکڑ لیتا ہے۔‘‘
بوقْتِ شہادت مسکراہٹ:
(5734)…حضرتِ سیِّدُناحسنرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: جب حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو حجاج کے پاس لایا گیا تو حجاج نے کہا: تو شقی بن کسیر ہے؟آپ نے فرمایا: میں سعید بن جبیر ہوں۔حجاج نے کہا : تو شقی بن کسیر ہے۔آپ نے فرمایا: میری ماں تجھ سے زیادہ میرا نام جانتی ہے۔ حجاج نے کہا:تو محمد( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے بارے میں کیا کہتا ہے؟آپ نے فرمایا: تیری مراد نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں؟ حجاج نے کہا: ہاں۔آپ نے فرمایا: اولاد آدم کے سردار ہیں نبی مصطفٰے ہیں سب اگلوں پچھلوں سے بہتر ہیں۔حجاج نے کہا : ابو بکر کے بارےمیں کیا کہتاہے؟ آپ نے فرمایا: صدّیق ہیں، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خلیفہ ہیں، لائق تعریف اور خوش بخت زندگی گزاری اور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے طریقہ کار پر رہے، اس میں کوئی تَغَیُّر و تَبَدُّل نہیں کیا۔ حجاج نے کہا: عمر کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ آپ نے فرمایا: عمر تو حق و باطل میں فرق کرنے والے ہیں، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اوراس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا انتخاب ہیں، اپنے دونوں ساتھیوں کے طریقہ کار پر رہے۔ حجاج نے کہا: عثمان کے بارے میں کیا کہتا ہے؟آپ نے فرمایا: وہ ظلماً قتل کیے گئے، غزوۂ تبوک کی تیاری کروانے والے ،بئر رومہ کھدوانے والے،جنت میں گھر خریدنے والے،دوبیٹیوں کی طرف سےرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے داماد، جن کا نکاح آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وحی آسمانی کے ذریعےکیا۔ حجاج نے کہا: علی کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ آپ نے فرمایا:رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچا زاد بھائی ہیں، سب سے پہلے اسلام لانے والے ہیں، حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے شوہر اور حضرتِ سیِّدُنا حسن اور حضرتِ سیِّدُنا حسینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے والد ہیں۔ حجاج نے کہا : معاویہ کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ آپ نے فرمایا: میرے نفس نے