گئی ہے جو نا حق کاٹا گیا اور اس کی تاروں کے ساتھ بروز قیامت تجھے کھینچا جائے گا۔حجاج نے کہا : اے سعید ! تیری ہلاکت ہو۔ آپ نے فرمایا: ہلاکت تو اس کے لئے ہے جو جنت سے روک کر جہنم میں داخل کیا گیا۔ حجاج نے کہا: اے سعید!کس طرح قتل ہونا پسند کرے گا؟آپ نے فرمایا: جو تجھے پسند ہو، خدا کی قسم! جس طرح تو مجھے قتل کرے گا بروز قیامت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسی طرح تجھے قتل کرے گا۔حجاج نے کہا: کیا تو چاہتا ہے کہ میں تجھے معاف کر دوں؟ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: معافی ہو بھی گئی تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے ہےاور تیرے سامنے نہ کوئی عذر تراشنا ہے نہ کوئی آزادی مانگنی ہے۔ حجاج نے کہا: اس کو لے جاؤ اور قتل کر دو۔ جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس کے دروازےسے نکلے تو مسکرا دیئے۔ حجاج کواس بات کا پتا چلا تو اس نے واپس بلوا لیا اور کہا: تم ہنسےکیوں تھے؟ آپ نے فرمایا: تیری اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر جرأت اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا تجھ پر حلم دیکھ کر۔ حجاج نے چمڑا بچھانے کا حکم دیا اور کہا: اسے یہاں قتل کرو۔آپ نے فرمایا: میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان و زمین بنائے ایک اسی کا ہوکر اور میں مشرکوں میں سے نہیں۔ حجاج نے کہا: اس کو قبلہ سے پھیر دو۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: تم جدھر منہ کرو ادھر وَجْہُ اللہ (خدا کی رحمت متوجہ ہے)۔ حجاج نے کہا: اس کا منہ زمین کی طرف کر دو۔ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے یہ آیتِ مبارکہ پڑھی:
مِنْہَا خَلَقْنٰکُمْ وَ فِیۡہَا نُعِیۡدُکُمْ وَ مِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی ﴿۵۵﴾ (پ۱۶،طٰہٰ:۵۵)
ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے زمین ہی سے تمہیں بنایا اور اسی میں تمہیں پھر لے جائیں گے اور اسی سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے۔
حجاج نے کہا: اس کو ذبح کر دو۔ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:میں گواہی دیتاہوں اور حُجَّت قائم کرتا ہوں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ کے بندے اور رسول ہیں،( اے اللہعَزَّ وَجَلَّ) یہ میرے طرف سے امانت رکھ لے حتّٰی کہ یہ امانت قیامت کے دن مجھ سے ملے، پھر آپ نے یہ دعا کی:”اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اسے میرے بعد کسی کو بھی قتل کرنے کی طاقت عطا نہ فرما۔“ چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو ذبح کر دیا گیا۔
حجاج کی موت:
حضرتِ سیِّدُنا عَوْن بن ابو شَدَّاد عَبْدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:اس واقعہ کے بعد حجاج 15دن زندہ