Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
368 - 475
 اسے میرے پاس لاؤ۔ملتمس آیا اور  حضرتِ سیِّدُنا سعیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا: آپ پر سلامتی ہو میں آپ کواللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی امانت میں دیتا ہوں ۔ یہ کہہ کر حجاج کے پاس  لے گیا۔حجاج نے کہا : تمہارا نام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: سعید بن جبیر۔حجاج نے کہا : تو شقی بن کسیر ہے۔ آپ نے فرمایا: میری ماں میرا نام تجھ سے زیادہ جانتی ہے۔حجاج نے کہا: تو بھی شقی(بدبخت) ہے اور تیری ماں بھی شقی ہے۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: غیب تو تیرے علاوہ کوئی اور ہی جانتا ہے(یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ)۔حجاج نے کہا: میں ضرور تجھے دنیا میں بھڑکتی آگ میں ڈالوں گا۔ آپ نے فرمایا:اگر میں جانتا کہ یہ معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے تو  تجھے معبود بنا لیتا۔ حجاج نے کہا: محمد(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے بارے میں کیا کہتے ہو؟آپ نے فرمایا: وہ نبی رحمت امام الہُدٰیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں۔حجاج نے کہا : علی(کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم) کے بارے میں تیرا کیا کہنا ہے کہ وہ جنت میں ہیں یا جہنم میں؟آپ نے فرمایا: اگر میں وہاں گیا تو جان لوں گا کہ وہاں کون کون ہے۔حجاج نے کہا: خلفاء کے بارے میں تیرا کیا کہنا ہے؟ آپ نے فرمایا: میں ان کا ذمہ دار نہیں۔حجاج نے کہا : تم ان میں سے کس کو زیادہ پسند کرتے ہو؟ آپ نے فرمایا: جس سے میرا خالق  زیادہ راضی ہو۔حجاج نے کہا: خالق کس سے راضی ہے؟آپ نے فرمایا: اس کا علم تو اس کے پاس ہے جو ان کی پوشیدہ باتوں  اور سرگوشیوں کو جانتا ہے۔حجاج نے کہا : تو مجھ سے سچ نہیں بولتا؟ آپ نے فرمایا: میں تیری تکذیب کرنا پسند نہیں کرتا۔حجاج نے کہا: تم ہنستے کیوں نہیں؟ آپ نے فرمایا:  مخلوق کیسے ہنس سکتی ہےحالانکہ اسے مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور مٹی کو آگ کھا جاتی ہے۔ حجاج نے کہا: ہم کیوں ہنستے ہیں؟ آپ نے فرمایا: تمہارے دل ٹیڑے ہیں۔ پھر حجاج نے موتی ، زَبَرْجَد اور یاقوت  حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سامنے ڈھیرکرنے کا حکم دیاتو آپ نے فرمایا: اگر تو ان سب کو بروز قیامت اپنے فدیہ کے لئے جمع کر رہا ہے تو  ٹھیک ہے وگرنہ اس دن ایسی گھبراہٹ ہو گی کہ حامِلہ اپنا حمل گرا دے گی،دنیا کے لئے جمع کی گئی کسی چیز میں بھلائی نہیں سوائے اس کے جو حلال وپاکیزہ ہو۔
	 پھر حجاج نے سارنگی اور بانسری منگوائی، جب سارنگی اور بانسری بجائی گئیں تو آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ رونے لگے، حجاج نے کہا: کیوں روتے ہو ؟اس کھیل کی وجہ سے؟ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: نہیں بلکہ غم کی وجہ سے، بانسری سے مجھے وہ بڑا دن یاد آگیا جب  صور پھونکا جائے گا اورسارنگی  تو ایک درخت سے بنائی