لوں، اپنے اوپر ڈالی جانے والی مٹی کو یاد کر لوں، جب صبح ہو گی تو تمہاری چاہت کے مطابق جو وقت میرے اور تمہارے درمیان مقرر ہے وہ پورا ہو جائے گا۔کسی نے کہا: ہم سب کچھ دیکھنے کے بعد آپ سے کوئی نشانی نہیں چاہتے۔ کسی نے کہا : تم اپنی خواہشات اور انعامات تک پہنچ چکے ہو لہٰذا اب انہیں مت چھوڑو۔ کسی نے کہا: تمہیں وہ ملے گا جو اس راہب کو نصیب ہوا، تمہارا برا ہو! کیا تمہارے لئے اس شیر والے معاملے میں عبرت نہیں؟کیسے وہ ان کے ساتھ اپنا جسم رگڑ تارہا اور صبح تک ان کی حفاظت کرتا رہا۔کسی نے کہا: مجھ پر لازم ہے کہ میں”اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ“انہیں تمہارے حوالے کر دوں گا۔ جب انہوں نے حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی جانب دیکھاتو ان کی آنکھوں سےآنسو بہہ رہےتھے،سرپراگندہ اوررنگ گردآلود تھا،جب سے یہ لوگ ان سے ملے تھے انہوں نے نہ کچھ کھایا تھا نہ پیا تھا اور نہ ہی ہنسے تھے ۔ ان سب نے کہا: اے زمین والوں میں سب سے بہترشخص!کاش ہم آپ کونہ جانتے اور آپ کی طرف نہ آتے، ہمارے لئے ہلاکت ہی ہلاکت ہے، ہم آپ کے سبب کس مصیبت میں جا پڑے، اس بڑے دن میں ہمارے خالق کے پاس ہمارے لئے معذرت کرنا، بے شک وہ سب سے بڑا قاضی ہے وہ انصاف کرتا ہے ظلم نہیں کرتا۔ حضرتِ سیِّدُنا سعیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: میں تمہاے لئے کیا معذرت کروں اور کیا راضی کروں جبکہ میرے لئے تو علم الٰہی میں یہ پہلے ہی سے مقدر ہو چکا۔جب وہ لوگ اپنے درمیان ہونے والی گفتگو اور رونے سے فارغ ہوئے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے کفیل نے کہا: اے سعید ! میں آپ کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا واسطہ دیتا ہوں ہمیں بھی اپنی دعاؤں اور کلام میں شامل رکھنا،بے شک ہم نے آپ جیسا کبھی نہیں دیکھا اور نہ قیامت تک دیکھنے کی امید ہے۔حضرتِ سیِّدُنا سعید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ہامی بھر لی اور انہوں نے آپ کو اکیلا چھوڑ دیا۔آپ نے اپنے سر ، جبہ اور چادر کو دھویا اور ان لوگوں نے ساری رات افسوس اور غم میں گزاری۔
صبح روشن ہوئی تو حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ان لوگوں کی طرف آئے اور دروازہ بجایا۔ انہوں نے (آپس میں)کہا : ربّ کعبہ کی قسم! تمہارے ساتھی ہیں۔ وہ لوگ آپ کے پاس آئے اور آپ کے ساتھ کافی دیر تک روتے رہے۔ پھر آپ کو حجاج کی طرف لے گئے۔حجاج بولا: سعید بن جبیر کو لائے ہو؟ انہوں نے کہا :ہاں اور ہم نے ان کا بہت ہی عجیب معاملہ دیکھا ہے۔حجاج نے اپنا چہرا ان سے پھیر لیا اور کہا: