Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
366 - 475
 میرا ربّ عَزَّ  وَجَلَّ میرے ساتھ ہے  وہ انہیں مجھے سے پھیر کر میری حفاظت کے لئے مقرر کر دے گااور اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّوہ  ہر برائی سے میری حفاظت کریں گے۔ انہوں نے کہا: کیا آپ انبیا میں سے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں انبیا میں سے تو نہیں لیکن اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے بندوں میں سے ایک گناہگار بندہ ہوں۔
	راہب نے کہا: کوئی ایسی ضمانت دیں جس پر مجھے اطمینان ہو۔انہوں نےحضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے کہا :راہب کی خواہش کے مطابق ضمانت دیں۔ آپ نے فرمایا: میں اس کی ضمانت دیتا ہوں جس کا کوئی شریک نہیں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّمیں صبح تک اپنی جگہ سے نہیں ہٹوں گا۔ راہب اس ضمانت پر راضی ہو گیا اور ان لوگوں سے کہا: گرجے میں آجاؤ اور اپنی کمانوں کو مضبوط کر لو تا کہ درندوں کو اس نیک بندے سے دور کر سکو،اس نے تو مسلمانوں کی قدر ومنزلت کی وجہ سے میرے گرجا میں داخل ہونا پسند نہیں کیا۔ جب وہ لوگ عبادت خانے میں داخل ہو گئے اور کمانوں کو سنبھال لیاتو اچانک ایک شیرنی آئی اور حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے قریب ہوکر اپنے جسم کو ان کے ساتھ رگڑا اور ایک طرف بیٹھ گئی  پھر شیر آیا اس نے بھی ایسا ہی کیا ۔ راہب نے جب یہ معاملہ دیکھا تو  صبح آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آیا اور دین اسلام اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت کے بارے میں پوچھا۔آپ نے سب کچھ تفصیل کے ساتھ بیان کیاتو راہب مسلمان ہو گیا اور زبردست مسلمان رہا۔ وہ لوگ بھی  حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آئے، معافی مانگی،آپ کے ہاتھ پاؤں  کو بوسہ دیااور جس جگہ آپ نے رات گزاری تھی وہاں کی مٹی لی اور اس پر نماز پڑھی  اور کہنے لگے: اے سعید!ہم نے حجاج سے وعدہ کیا ہے کہ ہماری بیویوں کو طلاق اور ہمارے غلام آزاد ہو جائیں اگر آپ کو دیکھ لیں تو نہیں چھوڑیں گے حتّٰی کہ اس کے پاس لے جائیں گے۔اب آپ جو چاہیں حکم کریں؟آپ نے فرمایا:تم اپنے وعدے کو پورا کرو میرا خالق میرے ساتھ ہے اوراس کے فیصلے کو کوئی ٹالنےوالا نہیں۔وہ سب چلے حتّٰی کہ واسط پہنچ گئے۔ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے  ان لوگوں سے فرمایا:اے لوگو ! میں تم سے الگ بھی رہا اور تمہارے ساتھ بھی رہا مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ میری موت کا  وقت آگیااور میری مدت پوری ہو چکی  لہٰذا مجھے ایک رات کے لئے چھوڑ دو کہ میں موت کو یاد کر لوں ،منکر نکیر کے سوالوں کی تیاری کر لوں، عذاب قبر کو یاد کر