Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
365 - 475
وہ مجھے بے ضرر سمجھتا اور میری کتابت کو پسند کرتا تھا،میں اس کے پاس بغیر اجازت چلا جایا کرتا۔ ایک دن حضرتِ سیِّدُناسعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی شہادت کے بعد میں حجاج کے پاس گیا وہ اپنے چار دروازوں والے کمرے میں تھامیں اس دروازے سے داخل ہوا جس  کی طرف حجاج کی پیٹھ تھی میں نے اسے کہتے ہوئے سنا: آخر میں نے سعید بن جبیر کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟تو میں خاموشی سے باہر آگیاکیونکہ میں جانتا تھا کہ اگر اسے میری موجودگی کا پتا چلا تو وہ مجھے قتل کروا دے گا۔اس کے بعد حجاج کچھ عرصہ ہی زندہ رہا۔ 
سیِّدُنا سعید بن جبیررَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ کی شہادت:
(5733)… حضرتِ سیِّدُنا عون بن ابو شَدَّاد عَبْدِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: جب حجاج بن یوسف کے پاس حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کا ذکر کیا گیا تو اس نے اپنے ایک خاص ساتھی مُلْتَمِّس بن اَحْوَص اس کے20 خاص افراد کے ساتھ جن کا تعلق شام سے تھا حضرتِ سیِّدُناسعیدبن جبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی طرف بھیجا وہ لوگ آپ کو تلاش کرتے ہوئے ایک راہب کےپاس پہنچے جو اپنے گرجے میں تھا،اس سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں پوچھاتو راہب نے کہا :مجھے ان کا حلیہ بتاؤ؟  انہوں نے حلیہ بتایا تو راہب نےایک جگہ کاپتابتادیا۔وہ لوگ وہاں پہنچےتوآپ کوسجدہ کی حالت میں  بلندآوازکےساتھ مُناجات کرتے پایا۔  وہ لوگ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےقریب ہوئےاورسلام کیا۔آپ نےسراٹھایااور اپنی نماز مکمل کر کےانہیں سلام کا جواب دیا ۔ انہوں نے کہا : ہمیں حجاج نے آپ کی طرف بھیجا ہے لہٰذا ہمارے ساتھ چلیں۔آپ نے فرمایا: جانا ضروری ہے؟انہوں نے کہا : جی ہاں۔ تو آپ   نےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حمد و ثنا کی  اوربارگاہِ رسالت میں ہدیہ درود پیش کیا پھر کھڑے ہو کر ان کے ساتھ چل دیئے حتّٰی کہ راہب کی خانقاہ تک پہنچ گئے۔راہب نے کہا: اے گھڑ سوارو! کیا وہ شخص تمہیں مل گیا؟انہوں نے کہا : ہاں۔ راہب بولا: میرے عبادت خانے میں آجاؤ کہ اس کے ارد گرد شیر اور شیرنی گھومتے ہیں لہٰذا شام سے پہلے اندر داخل ہو جاؤ۔ انہوں نے ایسا ہی کیا لیکن حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اندر جانے سے منع کر دیا۔ انہوں نے کہا: شاید آپ ہم سے بھاگنا چاہتے ہیں۔آپ نے فرمایا: نہیں، لیکن میں کبھی  کسی مشرک کے گھر میں داخل نہیں ہوں گا۔ انہوں نے کہا: ہم آپ کو اس طرح  نہیں چھوڑ سکتے ورنہ درندے آپ کو قتل کر دیں گے۔ آپ نے فرمایا: کوئی مسئلہ نہیں !