بیعت کے پابند:
(5728)…حجاج بن یوسف کے غلام عتبہ کا بیان ہے کہ جب حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو واسط میں حجاج کے پاس لایا گیا تومیں وہاں موجود تھا، حجاج نے کہا : کیا میں نے تمہارے لئے ایسا ایسا نہ کیا؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ہاں، کیوں نہیں۔حجاج نے کہا :پھر کس چیز نے تمہیں میری نافرمانی کرنے پر ابھارا؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اس بیعت نے جو مجھ پر تھی۔حجاج کو غصہ آگیا اور ہاتھ پر ہاتھ مار کر کہنے لگا:امیر المؤمنین کی بیعت اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ اسے پورا کیا جائے چنانچہ اس نے آپ کی گردن مارنے کا حکم دیا اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو شہید کر دیا گیا۔
(5729)…حضرتِ سیِّدُناحَوْشَبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: جب حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو لا کر شہید کر دیا گیا تو ان کے ازاربند کے ساتھ ایک تھیلی میں دراہم ملے،اب اس تھیلی کے معاملے میں حضرت کو لانے والے اور جَلَّاد کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔لہٰذا حجاج نے جلادکے حق میں فیصلہ دے دیا۔
(5730)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن شَوْذَب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حجاج نے جب حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے قتل کا حکم دیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے قبلہ کی جانب منہ کر لیا ۔ حجاج نے اپنی جگہ سے آواز دی : اس کا منہ قبلہ سے پھیر دو، اس کا منہ قبلہ سے پھیر دو،لہٰذاانہیں قبلہ سے پھیر دیا گیا۔
زبان پر کلمہ طیّبہ:
(5731)…حضرتِ سیِّدُنا خلیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی شہادت گاہ میں بھی موجود تھا۔جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا سر الگ کیا جارہا رتھا تو آپ نے پڑھا”لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ، لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ “پھر تیسری مرتبہ پڑھا لیکن مکمل نہ کر سکے۔
دشمن بھی افسوس کرے:
(5732)… حضرت سیّدُنا یحییٰ بن سعیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد فرماتے ہیں:ام سلمہ کے بھائی یعنی حجاج بن یوسف کے بیتُ الْمال پر معمور کاتب یَعلیٰ نے کہا:میں حجاج کے لئے لکھتا تھا جبکہ میں چھوٹی عمر کا ایک لڑکا تھا